امام ذہبی نے بھی تلخیص میں اسے صحیح فرمایا ہے۔
(تلخیص ذہبی مع مستدرک، ج3،ص264۔)
امام ہیثمی نے آپ کی حدیث کو حسن کہا ہے۔
(مجمع الزوائد، ج8، ص358) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
گویا ان محدثین کرام کے نزدیک امام محمد بن حسن رضی اللّٰہ عنہ ثقہ و صدوق ہیں۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ امام محمد بن حسن نے فرمایا،
میں امام مالک کے دروازے پر تین سال تک رہا، اور خود ان سے سات سو سے زیادہ حدیثیں سنیں۔
امام شافعی نے فرمایا،
جب امام محمد بن حسن، امام مالک کی حدیثیں بیان کرتے تھے تو ان کا مکان لوگوں سے بھر جاتا تھا۔
(مناقب الامام وصاحبیہ،ص82)
محدث و فقیہ امام ابوعبداللّٰہ حسین بن علی الصیمری (م۴۳۶ھ) رقمطراز ہیں،
ابو سلیمان جوزجانی اور معلی بن منصور نے امام محمد بن حسن اور امام ابو یوسف سے ان کی تمام کتب اور امالی روایت کی ہیں۔ پھر محمد بن سماعہ کے متعلق فرماتے ہیں، وہ ثقہ حفاظ میں سے ہے اور اس نے امام ابو یوسف سے نوادر اور امام محمد بن حسن سے ان کی تمام کتب روایت کی ہیں۔
(اخبار ابوحنیفہ واصحابہ،ص162) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ
آپ کی تصانیف میں مؤطا امام محمد اور کتاب الآثار اس لیے مشہور ہیں کہ مؤطا میں آپ نے امام مالک رضی اللّٰہ عنہ سے ایک ہزار سے زائد احادیث روایت کی ہیں جبکہ کتاب الآثار میں آپ نے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث روایت کی ہیں۔نواب صدیق حسن بھو پالی نے بھی اپنی کتاب ’’اتحاف النبلآء‘‘میں اس حقیقت کا اقرار کیا ہے۔
(اتحاف النبلآء، لصدیق حسن،ص143،167)
آپ کی دیگر تصانیف میں المبسوط، الزیادات، الجامع الصغیر، الجامع الکبیر، السیر الصغیر، السیر الکبیر، کتاب الحجۃ علی اہل المدینہ، کتاب الحج وغیرہ شامل ہیں۔
حاجی خلیفہ نے لکھا ہے کہ اہلِ کتاب کا ایک فلسفی امام محمد رحمہ اللّٰہ کی کتاب المبسوط پڑھ کر ایمان لے آیا، اور کہنے لگا، جب تمہارے چھوٹے محمد کی یہ کتاب ہے تو بڑے محمد ﷺ کی کتاب کا کیا حال ہو گا! (کشف الظنون، ج2، ص1581)
43 ۔ قال محمد اخبرنا الثوری حدثنا حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوۃ۔
امام محمد نے فرمایا، ہمیں سفیان ثوری نے خبردی، انہوں نے کہا، ہم سے حصین نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابراہیم سے اور انہوں نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ بیشک وہ جب نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے تھے۔
(مؤطا امام محمد، ج1، ص185)
امام محمد رحمہ اللّٰہ کی دیگر روایات حضرت وائل رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث کے ضمن میں بیان ہوں گی۔ اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ
تعارف امام طحاوی:
حافظ الحدیث امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ طحاوی رحمہ اللّٰہ، مصر کی ایک بستی ’طحا ‘میں ۲۳۷ھ میں پیدا ہوئے۔آپ تیسری صدی ہجری کے عظیم محدث اور بے مثل فقیہ تھے۔ تاریخ میں ایسے جامع لوگ بہت نایاب ہیں جنہیں حدیث اور فقہ دونوں شعبوں میں سند کی حیثیت حاصل ہو اور وہ دونوں علوم میں امامت کے مقام پر فائز ہوں۔
امام طحاوی کو رب تعالیٰ نے وہ نمایاں مقام عطا فرمایا ہے کہ محدثین آپ کو حافظ الحدیث اور امام قرار دیتے ہیں اور فقہاء آپ کو مجتہد منتسب کا درجہ دیتے ہیں۔
محدث علی قاری کے بقول:
آپ ان مجتہدین میں سے ہیں جو ان مسائل میں اجتہاد کرتے ہیں جن میں صاحبِ مذہب سے کوئی روایت منقول نہ ہو۔ امام طحاوی کے علم و فضل اور ثقاہت و صداقت کا ہر دور میں اہلِ علم نے اعتراف کیا ہے۔
علامہ عینی نے فرمایا،
امام طحاوی کی ثقاہت، دیانت، علمِ حدیث پر کامل عبور اور حدیث کے ناسخ و منسوخ میں مہارت پر اجماع ہو چکا ہے۔

