Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 31 of 107

حافظ ابن عبد البر مالکی نے کہا،

آپ اہلِ کوفہ کی روایات اور مسائلِ فقیہ کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے اور تمام مذاہبِ فقہاء کے عالم تھے۔

امام سیوطی نے فرمایا،

آپ حدیث وفقہ کے امام، علومِ دینیہ کے ماہر، حافظ، صاحبِ تصانیف،ثقہ ، ثبت اور فقیہ ہیں۔ آپ کے بعد آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہوا۔

علامہ سمعانی نے کہا،

آپ امامِ عاقل اور ثقہ شخصیت تھے۔ ان کے وصال کے بعد دنیا آج تک ان کی نظیر پیش نہیں کر سکی۔
(الانساب، للسمعانی ج2، ص179)  رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

امام طحاوی نے احمد بن ابی عمران سے فقہ حنفی کا علم حاصل کیا، اس طرح امام اعظم تک آپ کی سندِ فقہ یہ ہوئی۔

احمد بن ابی عمران عن محمد بن سماعۃ عن ابی یوسف عن امام ابی حنیفہ۔

آپ نے مصر اور شام کے اکابر محدثین سے تحصیلِ علم کیا۔ائمہ محدثین اور علماءِ رجال نے علم الحدیث میں امام طحاوی کے فضل و کمال کا اعتراف کیا ہے۔

ابو سعید بن یونس نے تاریخ علماءِ مصر میں لکھا، آپ صاحبِ ثقاہت اور صاحبِ فقہ تھے، آپ کے بعد آپ جیسا کوئی نہ ہوا۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

امام ذہبی رحمہ اللّٰہ نے آپ کا تذکرہ یوں کیا ہے:

الطحاوی الامام الحافظ صاحب التصانیف البدیعۃ ابوجعفراحمد بن محمد بن سلامہ۔

پھر لکھا ہے، امام ابن یونس نے کہا، طحاوی ثقہ، ثبت، فقیہ، عاقل ہے۔ اس نے اپنے بعد اپنی مثل نہیں چھوڑا۔ (تذکرۃ الحفاظ ،ج3، ص21)

 

حافظ ابن حجر نے ابن یونس کا مذکورہ قول لکھ کر امام مسلمہ بن قاسم اندلسی کا قول لکھا،

امام طحاوی ثقہ جلیل القدر فقیہ ہیں۔ محمد بن اسحاق الندیم نے الفہرست میں امام طحاوی کو اپنے زمانے کا یکتا امام قرار دیا۔
(لسان المیزان،ج1، ص276)

 

علامہ ابن کثیر آپ کے متعلق رقمطراز ہیں،

امام طحاوی مفید تصانیف اور قیمتی فوائد کے مالک ہیں۔ آپ حدیث کی روایت میں ثقہ ثبت اور بڑے حفاظِ حدیث میں سے ایک ہیں۔ (البدایہ والنہایہ، ج11، ص198) رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

 

امام الوہابیہ ابن عبدالوہاب نجدی کے مجموعۂ رسائل ’’الجامع الفرید ‘‘ میں امام طحاوی کو امام کبیر، محدث، فقیہ، محافظِ دین، ثقہ، جید عالم اور بے مثل دانشمند لکھا ہے۔

 

امام ذہبی نے تاریخ کبیر میں لکھا،

امام طحاوی بہت بڑے فقیہ، محدث، حافظ، معروف شخصیت، ثقہ راوی ، جید عالم اور عقلمند انسان تھے۔

حافظ ابن کثیر کے حوالے سے لکھا،

امام طحاوی جید عالم اور بلند پایہ محدث تھے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد تیس کے قریب ہے۔ان میں شرح معانی الآثار اور شرح مشکل الآثار بہت مشہور ہیں۔ ۳۲۱ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
(تاریخ الاسلام، ج7،ص439)

 

علامہ اتقانی رحمہ اللّٰہ نے فخر یہ کہا، جو شخص امام طحاوی کی علمی مہارت کا اندازہ کرنا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ شرح معانی الآثار کا مطالعہ کرے۔ مسلکِ حنفی تو الگ رہا ،کسی مذہب سے بھی اس کتاب کی نظیر نہیں پیش کی جا سکتی۔

امام طحاوی رحمہ اللّٰہ نے اس کتاب میں احناف کی مؤید احادیث کو قوی اسانید کے ساتھ پیش کیا ہے اور احناف کے برخلاف دوسرے لوگ جو احادیث پیش کرتے ہیں، ان میں تعارض کو دور کیا ہے یا پھر ان کا ضعیف یا منسوخ ہونا واضح کیا ہے۔

اس کتاب کے ذریعہ آپ نے ثابت کیا ہے کہ امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے موقف کی بنیاد صحیح احادیث پر ہے۔

 

امام طحاوی رحمہ اللّٰہ روایت کرتے ہیں،

44 ۔ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا نعیم ابن حماد قال ثنا وکیع عن سفیان عن عاصم ابن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللہ عن النبی ﷺ انہ کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود۔

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک نبی کریم ﷺ  پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔ (شرح معانی الآثار، ج1، ص384)

 

45۔ حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا یحیی بن یحیی قال ثنا وکیع عن سفیان فذکر مثلہ باسنادہ۔

حضرت وکیع حضرت سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی سند کے ساتھ اس کی مثل روایت کیا ہے۔
(شرح معانی الآثار، ج1، ص384)
رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

Share:
keyboard_arrow_up