حضرت براء رضی اللّٰہ عنہ کی احادیث:
46۔ حدثنا محمد بن الصباح البزاز نا شریک عن یزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمن ابن ابی لیلی عن البراء ان رسول اللّٰہ ﷺ کان اذا افتتح الصلوۃ رفع یدیہ الی قریب من اذنیہ ثم لا یعود۔
حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اور پھر ایسا نہ کرتے۔ (سنن ابوداؤد، ج2، ص406، حدیث نمبر:640)
اس حدیث پر امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ نے سکوت کیا ہے اور اہلِ علم جانتے ہیں کہ امام ابو داؤد جس حدیث پر سکوت کرتے ہیں وہ حدیث ان کے نزدیک قابلِ استدلال ہوتی ہے۔ غیر مقلد عالم عبدالرحمن مبارک پوری نے ابکار المنن میں یہی تحریر کیا ہے۔
(ابکار المنن، ص344، 345 )
47۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں،
عبد اللّٰہ بن محمد زہری اور سفیان نے شریک کے مطابق یزید بن ابی زیاد سے حدیث روایت کی لیکن یہ نہیں کہا، ثم لا یعود۔ کہ پھر ایسا نہ کرتے۔ سفیان نے کہا، ہم سے کوفے میں کہا گیا کہ پھر ایسا نہ کرتے۔ امام ابوداؤد کے نزدیک شریک اس روایت میں منفرد ہیں کیونکہ یزید بن ابی زیاد کے دوسرے شاگرد اس حدیث میں ثُمَّ لَا یَعُوْدُ کے الفاظ روایت نہیں کرتے۔
(سنن ابوداؤد، ج2، ص406 ،407، حدیث نمبر:640)
اس قول سے کوئی یہ بدگمانی نہ کرے کہ یزید نے کوفے والوں کے کہنے پر اس حدیث میں مذکورہ الفاظ حضور ﷺ کی طرف منسوب کر دیے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر لازم تھا کہ محدثین ایسے راوی سے کوئی حدیث روایت ہی نہ کرتے جبکہ یزید بن ابی زیاد کتبِ صحاح کے راوی ہیں۔
محدثین کا یہ فرمانا کہ پہلے ثُمَّ لاَ یَعُوْد کے بغیر حدیث روایت کرتے تھے پھر یہ الفاظ بھی روایت کرنے لگے، یہ کوئی معیوب بات نہیں۔
راوی نے کبھی حدیث کا صرف اتنا حصہ بیان کیا جس قدر حصے کی اس وقت ضرورت تھی اور کبھی مکمل حدیث بیان کی۔احادیث کو کبھی اختصار سے اور کبھی تفصیل سے بیان کرنے کی بے شمار مثالیں صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر کتب میں موجود ہیں۔
اس حدیث پر غیر مقلدین کا اعتراض یہ ہے کہ اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد ہے جو کہ ضعیف ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان کے حافظہ پر کلام کیا ہے لیکن کئی محدثین نے انہیں ثقہ کہا ہے۔
غیر مقلد عالم احمد شاکر مصری نے شرح ترمذی میں ایک جگہ لکھا،
والحق انہ ثقۃ، قال ابن شاہین فی الثقات، قال احمد بن صالح المصری یزید بن ابی زیاد ثقۃ ولا یعجبنی قول من تکلم فیہ، وقال ابن سعد فی الطبقات وکان ثقۃ فی نفسہ۔
’’حق بات یہ ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے۔ ابن شاہین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ احمد بن صالح مصری نے کہا، یزید بن ابی زیاد ثقہ ہے، مجھے اس کا قول پسند نہیں جس نے اس راوی پر کلام کیا۔ امام ابن سعد نے طبقات میں فرمایا، یزید بن ابی زیاد ثقہ ہے‘‘۔
(ترمذی بتحقیق و شرح احمد شاکرج1، ص195)
انہی غیر مقلد عالم نے ایک اور حدیث کے تحت لکھا،
اس حدیث کا دار و مدار یزید بن ابی زیاد پر ہے اور وہ ثقہ ہے، اس کی حدیث صحیح ہے۔ (ترمذی بتحقیق و شرح احمد شاکرج2، ص409)
غیر مقلدین کو کم ازکم اپنے عالم کی گواہی تو مان لینی چاہیے۔ تحقیق یہ ہے کہ یہ حدیث یزید بن ابی زیاد کے علاوہ دوسرے حضرات مثلاً عیسیٰ اور حَکَمْ سے بھی مذکورہ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ مروی ہے۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یزید بن ابی زیاد سے مذکورہ الفاظ روایت کرنے میں شریک منفرد نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، ہیشم، ابن ادریس، محمد بن ابی لیلیٰ، اسماعیل بن زکریا، اسرائیل بن یونس وغیرہ نے بھی ثُمَّ لَا یَعُوْد کا مضمون روایت کیا ہے۔
یہ احادیث اکابر ائمہ مثلاً امام عبدالرزاق، امام ابن ابی شیبہ، امام ابوداؤد، امام طحاوی، امام ابویعلیٰ، امام بیہقی وغیرہ نے روایت کی ہیں۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

