امام ابن ہمام رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’ رکوع کے وقت اور رکوع کے بعد رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں احادیث اور آثار سے ثابت ہیں اور تعارض کے وقت ترجیح کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک ترجیح ترکِ رفع یدین کو ہے کیونکہ پہلے نماز میں گفتگو کرنا اور جنسِ نماز کے علاوہ دیگر افعال کرنا مباح تھے بعد میں ان کو منسوخ کر دیا گیا۔
(دیکھئے صحیح بخاری) اس لیے بعید نہیں ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہو‘‘۔ (فتح القدیر،ج1/271)
غیر مقلدین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دلیل کے طور پر کسی محدث یا امام کا قول تو کُجا کسی صحابی کا قول بھی پیش نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کے نزدیک صحابی کا قول یا فعل شرعی دلیل نہیں ہوتا۔
غیر مقلدین کے امام نواب صدیق حسن بھوپالی لکھتے ہیں،
وقول الصحابی لاتقوم بہ حجۃ۔
صحابی کا قول حجت نہیں ہے۔
(الروضۃ الندیۃ، ج1/89)
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نظریے کے خلاف جس قدر صحیح احادیث بھی ہوں سب کا انکار کر دیتے ہیں، احادیث میں تطبیق دینے یا تعارض دور کرنے کی زحمت نہیں کرتے بلکہ جلیل القدر تابعی امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ اور تبع تابعی امام محمدرضی اللّٰہ عنہ کی احادیث کا انکار کر تے ہیں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ:
کسی حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کے متعلق غیر مقلدین خیرُالقرون کے محدثین کی بجائے صرف اپنے فرقے کے مولوی کی بات مانتے ہیں، کیا یہ تقلیدِ شخصی نہیں؟
غور فرمائیے کہ:
کسی محدث کے قول کی وجہ سے کسی راوی کو ثقہ یا ضعیف مان لینا تقلیدِ شخصی ہے یا نہیں؟ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
علامہ مفتی عبدالرزاق بھترالوی صاحب لکھتے ہیں،
بعض اوقات اہل علم سے غیر ارادی طور پر ایسی غلطی ہوتی ہے کہ اگر اس کی گرفت نہ کی جائے تو اس کا عظیم نقصان ہوتا ہے۔ اگر کسی کی زبانی کلامی بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ معاذ ﷲ امام اعظم رحمہ ﷲ ضعیف راوی ہیں تو تمام محدثین پر اعتبار ختم ہو جائے گا، جب کہ آپ کے علم، زہد و تقویٰ اور تابعی ہونے میں کوئی بھی آپ کے برابر نہیں۔
اس طرح تو کوئی دوسرا کہہ دے گا کہ میں معاذ ﷲ بخاری ، مسلم وغیرہ کو نہیں مانتا کہ انہوں نے جو احادیث جمع کی ہیں وہ صحیح ہوں کیونکہ (معاذ ﷲ) وہ دونوں ضعیف راوی ہیں ۔
خدارا انصاف کیجئے اور بتائیے، کیا اس قسم کے اقوال سے حدیث کو، محدثین کو اور اسلام کو فائدہ پہنچتا ہے یا نقصان ؟ ؟
(نمازِحبیب کبریاء:۲۲۵)
غیر مقلدین نے نماز کے متعلق اپنی کتب میں ضعیف اور شاذ روایات کو اپنے طریقۂ نماز کی بنیاد بنایا ہے۔
اس بارے میں فاضلِ جلیل پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری جیلانی حفظہ اللّٰہ نے زیرِ نظر کتاب میں بعض اہم مسائل پر مدلل تحقیقی گفتگو فرمائی ہے۔
رب تعالیٰ حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کےفیوض و برکات سے ہمیں مزید استفادہ کرنے کی توفیق دے اور اس کتاب کو نافع خلائق اور معاونین و قارئین کے لیے توشۂ آخرت بنائے۔ آمین بحرمۃ سید المرسلین ﷺ
خاکپائے علماء حق
محمد آصف قادری غفرلہٗ

