غیر مقلدین کے اکابر علماء کی تصریحات سے ثابت ہو گیا کہ اختلافی رفع یدین مستحب ہے۔
جب غیرمقلدین کے اکابرین کے نزدیک بھی رفع یدین ایک مستحب فعل ہے، فرض یا واجب یا سنتِ مؤکدہ ہونے کا تو ذکر ہی نہیں۔پھر جدید غیر مقلدین اس مسئلہ پر اس قدر جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں کہ حق اور باطل، سچ اور جھوٹ میں تمیز کھو بیٹھتے ہیں اور اپنے باطل نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لیے موضوع روایات پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
سادہ لوح مسلمانوں کو وہ ایک اور مغالطہ یہ دیتے ہیں کہ
’’رکوع کے وقت کیا جانے والا رفع یدین پچاس صحابہ کرام سے منقول ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں اس لیے یہ واجب ہے‘‘۔
جواب میں عرض ہے کہ:
جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا بری بات ہے۔ جو رفع یدین پچاس صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم سے منقول ہے وہ رکوع کے وقت کیا جانے والا نہیں بلکہ تکبیر تحریمہ کے وقت کیا جانے والا رفع یدین ہے۔
غیر مقلدین کے امام شوکانی لکھتے ہیں،
وجمع العراقی عدد من روی رفع الیدین فی ابتداء الصلوۃ فبلغوا خمسین صحابیا منہم العشرۃ المشہود لہم بالجنۃ۔
علامہ عراقی نے نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے کی روایات کو بیان کرنے والے صحابہ کرام کی تعداد کو شمار کیا تو ان کی تعداد پچاس تک پہنچ گئی۔ جن میں وہ دس صحابہ بھی ہیں جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت ملی ہے۔
(نیل الاوطار ،ج2/191)
ایک اور غیر مقلد عالم محمد بن اسماعیل صنعانی نے، بلوغ المرام کی شرح میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے،
قال المصنف انہ روی رفع الیدین فی اول الصلوٰۃ خمسون صحابیا منہم العشرۃ المشہود لہم بالجنۃ۔
(سبل السلام شرح بلوغ المرام، ج1/274)
مصنف امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ:
نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرنے کی احادیث پچاس صحابہ سے مروی ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔
غیر مقلد نواب بھوپالی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (الروضۃ الندیۃ، ج1/93)
مذکورہ بالا عبارات میں رفع الیدین فی ابتداء الصلوٰۃ اور رفع الیدین فی اول الصلوٰۃ قابلِ توجہ اور غور طلب ہیں۔ ان سے واضح ہو رہا ہے کہ جو رفع یدین پچاس صحابہ رضی اللّٰہ عنہ سے ثابت ہے وہ رکوع والی نہیں بلکہ نماز کے شروع کے وقت کی ہے۔
غور فرمائیے کہ:
جب تمام صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ کی متفقہ تکبیر تحریمہ والی رفع یدین واجب نہیں ہے تو اختلافی رفع یدین جس کے منسوخ ہونے پر صحیح احادیث موجود ہیں وہ کیونکر واجب یا فرض یا نماز کا رُکن ہو سکتی ہے؟؟؟
زیرِ نظر کتاب میں حدیث نمبر 8 ملاحظہ فرمائیں جس میں ہے،
فعلہ من فعلہ وترکہ من ترکہ۔
اسے کیا جنہوں نے کیا اور اسے چھوڑ دیا جنہوں نے چھوڑ دیا۔
(ابوداؤد)
اس حدیث میں لفظ مَنْ عام معنوی ہے یعنی رفع یدین کرنے اور نہ کرنے والے بکثرت تھے۔
اس حدیث کے حوالے سے امام ابن عبد البر رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جن صحابہ نے رفع یدین چھوڑ دیا تھا انہوں نے رفع یدین کرنے والوں پر کوئی طعن و تشنیع نہ کی۔ (التمھید، ج9/227)
اس سے بھی معلوم ہوا کہ:
جس طرح رفع یدین سنت سے ثابت ہے اسی طرح ترکِ رفع یدین بھی سنت سے ثابت ہے۔ ورنہ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم سے یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کے سامنے کوئی سنت کو علانیہ ترک کردے اور وہ اس پر خاموش رہیں۔ جب کسی مسئلہ میں متعدد متعارض روایات آجائیں تو ایسی صورت میں امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان روایات میں تطبیق دی جائے تاکہ تمام روایات پر عمل ہوسکے۔ اور اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو پھر آپ اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جو دین اور اصولِ روایت کے قریب ترین ہو۔
ایسی صورت میں امام مالک رضی اللّٰہ عنہ اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جس پر اہلِ مدینہ کا عمل ہو۔
اور امام شافعی رضی اللّٰہ عنہ قوتِ سند کے اعتبار سے کسی ایک روایت کو لیتے ہیں اور دیگر روایات کو چھوڑ دیتے ہیں
جبکہ امام احمد بن حنبل رضی اللّٰہ عنہ متقدمین کی اکثریت کا لحاظ رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں۔

