Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 6 of 107

حکیم صاحب نے اپنی کتاب میں ’’رفع یدین سے نفرت یا چڑ‘‘ کے الفاظ بھی تحریر کیے ہیں۔

عرض یہ ہے کہ سجدوں کے وقت رفع یدین کرنا بھی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ ان احادیث میں بھی ماضی استمراری ہے۔ غیر مقلد خالد گرجاکھی صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے کہ’’ سجدوں کے رفع یدین کے کئی لوگ قائل ہیں جیسے ایوب سختیانی، طاؤس، نافع اور عطا ء وغیرہ‘‘۔

 

فتاویٰ علماء اہلحدیث حصہ سوم میں بھی سجدوں کے رفع یدین کو سنت قرار دیا گیا ہے۔ جب صحیح حدیثوں میں سجدوں کے رفع یدین کو ترک کرنے کا ذکر مل گیا تو ہم  نے اسے ترک کر دیا اور غیر مقلدین نے بھی۔ اس وقت کسی کو سنت سے نفرت کا لفظ یاد نہ آیا، نہ رفع یدین سے چڑ کا عنوان، اور نہ ہی ماضی استمراری کا قاعدہ یاد رہا۔

 

صلوٰۃ الرسول کے صفحہ۲۰۰ پر رفع یدین کو ڈاکٹر کے نسخے پر قیاس کیا ہے کہ اگر ڈاکٹر نسخے میں چند دوائیں لکھے اور مریض کچھ دوائیں نسخے سے خارج کردے تو شفا کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ قیاس صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر نسخے کی کچھ دوائیں ڈاکٹر از خود نسخے سے خارج کر دے مگر مریض ضد کرے کہ میں تو یہ نہیں نکالوں گا تو شفا کی امید کیونکر ہو سکتی ہے نیز اس بےجا ضد پر ڈاکٹر اس مریض سے کس قدر ناراض ہوگا۔

 

وحی ٔ الٰہی کے ترجمان حبیبِ کبریاء نے جو نسخہ اپنی امت کے لیے تجویز فرمایااور وحی سے ہی خودآپ نے اسے تبدیل فرمایا۔

اب جو کوئی اسے ماننے سے انکار کرے گا وہ ایمان کی شفاء کہاں تک پائے گا اور اس کی یہ جسارت کیا کہلائے گی؟

حکیم صاحب لکھتے ہیں،

’’پھر اس بات پر کس قدر افسوس ہے کہ صرف پہلی بار کا رفع الیدین مذکورہ احادیث سے لے لیا گیا ہے اور باقی تین جگہوں کا چھوڑ دیا ہے۔ کیا یہ بے انصافی نہیں ہے؟ دین میں دخل نہیں ہے؟

 

‘‘جواب میں عرض یہ ہے کہ: آپ نے جو سجدوں کا رفع یدین چھوڑ دیا ہے اس کے متعلق یہ کہنا کیسا ہے،’’رکوع کا رفع یدین لے لیا ہے اور سجدوں کا چھوڑ دیا ہے۔ کیا یہ بے انصافی نہیں ؟دین میں دخل نہیں؟‘‘۔

جو آپ کا جواب ہے وہی ہمارا جواب ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ امام الوہابیہ ابن تیمیہ نے اختلافی رفع یدین کے ترک و عمل کو افضل اور غیر افضل پر محمول کیا ہے۔

ملاحظہ ہو، فتاویٰ ابن تیمیہ ج۲/۳۷۶۔  غیرمقلد شوکانی نے نیل الاوطار جلد دوم صفحہ ۱۹۹ پر،ابن حزم ظاہری نے المحلیٰ جلد سوم صفحہ ۲۳۵پر اور مناظرِ اہلحدیث مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری نے اپنے رسالے ’’اہلحدیث کا مذہب‘‘ صفحہ ۱۸۸ پر صاف لفظوں میں اختلافی رفع یدین کو مستحب لکھا ہے۔

غیر مقلدوں کے پیشوا مولوی اسماعیل دہلوی نے رفع یدین کے متعلق تحریر کیا ہے،

’’سچی بات یہ ہے کہ نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع کے بعد قیام کرتے ہوئے اور تیسری رکعت کے شروع قیام میں رفع الیدین کرنا سننِ ہدایت میں سے غیر مؤکدہ سنت ہے۔  چنانچہ رفع یدین کرنے والے کو اس کے فعل کے مطابق ثواب ہوگا۔ اگر ہمیشہ یہ عمل کیا تو اس کے مطابق، اور اگر ایک مرتبہ کیا تو اس کے مطابق، اور اگر کوئی شخص ساری عمر رفع یدین نہ کرے تو اسے ملامت نہیں کرنی چاہیے۔
(تنویر العینین،ص5، ناشر المکتبۃ السلفیۃ لاہور)

 

غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی بھی یہی لکھتے ہیں:

ان رفع الیدین عند الافتتاح والرکوع والقیام منہ والقیام الی الثالثۃ سنۃ غیر مؤکدہ۔

تکبیرِ افتتاح، رکوع میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت نیز تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت کی رفع یدین سنتِ غیر مؤکدہ ہے۔
(الروضۃ  الندیہ ،1/261)

 

مشہور غیر مقلد علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں،

امام ابوحنیفہ، اہلِ کوفہ اور امام مالک کی مشہور روایت یہی ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر اوقات میں رفع یدین نہیں ہے اور بالاجماع رفع یدین کرنا کسی وقت بھی واجب نہیں۔
(صحیح مسلم مترجم، جلد2/18)

Share:
keyboard_arrow_up