Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 5 of 107

ہم کہتے ہیں، مذکورہ اقوال آیاتِ قرآنی یا احادیثِ رسول  نہیں بلکہ آپ کی رائے یا بعض ائمہ کی اپنی رائے ہے اور وہ بھی بلا کسی شرعی دلیل کے ۔

دوم یہ کہ : یہ ہم پر حجت نہیں کیونکہ ہم اس موقف کے قائلین کے مقلد نہیں ہیں۔ ہمارے لیے تو ہمارے امام کا قول حجت ہے۔ غیر مقلدین کے لیے بھی یہ اقوال حجت نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ کہتے ہیں، ’’اہلحدیث کا ایک ہی اصول…فرمانِ خدا اور فرمانِ رسول ‘‘۔ لہٰذا کسی امام یا محدث کا قول ماننا غیر مقلدین کے لیے کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک دلیل تو صرف اللّٰہ اور رسول کا قول ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کسی ایک حدیث کو بھی نہ صحیح فرمایا نہ ضعیف، اور نہ ہی کسی امتی کے لیے فرمایا کہ فلاں امتی جس حدیث کو صحیح کہے تم بھی صحیح مانو، جس راوی پر جرح کرے اُسے ضعیف جانو، مزید یہ کہ احادیث سے قطع نظر وہ اپنی رائے سے جو باب کا عنوان قائم کرے اسے بھی قرآن و حدیث کا درجہ دو ۔

بلکہ غیرمقلدوں کے ہاں تو بلا دلیل امتی کی بات ماننا شرک ہے۔اس لیے وہ اپنی یا کسی امتی کی رائے سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنے سے مشرک ہو جاتے ہیں، کم از کم اہلِ حدیث نہیں رہتے۔

جو شخص اپنی رائے سے یا کسی امتی کی رائے سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف کہتا ہے وہ اُس رائے کا مقلد ہے۔ اس کا اہل حدیث کہلانے کا دعویٰ غلط ہے۔

ہمارا معاملہ اُن سے جدا ہے کیونکہ ہمارے یہاں اجماع اور اجتہاد بھی شرعی دلیل ہیں۔ ہم کہتے ہیں، ائمہ مجتہدین نے جس حدیث کو قبول کیا وہ بدلیل اجماع ہمارے نزدیک صحیح ہے۔

مذاہبِ اربعہ حق ہیں۔ اگر ائمہ اربعہ میں کسی مسئلہ میں اختلافِ رائے ہے تو جس پر ہمارے امام کا عمل ہے ہمارے لیے وہ راجح ہے۔

مذکورہ بالا اقوال نقل کر کے علامہ ابن عبدالبر مالکی رحمہ اللّٰہ نے ان کی تردید فرمائی اور لکھا،

ولیس ہذا بصحیح عندنا لما ذکرنا لان ایجاب الاعادۃ ایجاب فرض والفرائض لا تثبت الا بحجۃ او سنۃ لا معارض لھا او اجماع من الامۃ۔ (التمہید،9/226)

 

ہمارے نزدیک یہ دعویٰ (کہ ترکِ رفع یدین سے نماز ناقص یا واجب الاعادہ ہوتی ہے) درست نہیں کیونکہ نماز دُھرانے کو واجب قرار دینا اس (رفع یدین) کو فرض اور واجب کہنے کے مترادف ہے۔

جبکہ فرائض تو دلیلِ قطعی( آیت) یا ایسی سنت سے ثابت ہوتے ہیں جس کے مقابلے میں کوئی دلیل نہ ہو یا امت کے اجماع سے۔ یعنی رفع یدین کے مسئلے میں کوئی قطعی دلیل موجود نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی صحیح حدیث موجود ہے کہ جس کے مقابل کوئی اور صحیح حدیث نہ ہو، نہ ہی یہ اجماعِ امت سے ثابت ہے۔

 

امام نووی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

اجمعت الامۃ علی استحباب رفع الیدین عند تکبیرۃ الاحرام واختلفوا فیما سواہا.... واجمعوا علی انہ لا یجب شیٔ من الرفع۔

اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنا مستحب ہے اس کے علاوہ میں اختلاف ہے … اور اس پر بھی اجماع ہے کہ رفع یدین کسی مقام پر بھی واجب نہیں۔
(شرح النووی علی المسلم،4/95)

 

غیر مقلد عالم قاضی شوکانی نے بھی اس قول کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:ابن حزم وغیرہ نے بھی رفع یدین کے کسی بھی جگہ واجب نہ ہونے پر امت کا اجماع بیان کیا ہے۔
(نیل الاوطار،ج2صفحہ183،مطبوعہ مصر)

 

غیر مقلدین جزء رفع الیدین کے حوالے سے امام بخاری رحمہ اللّٰہ کا یہ قول پیش کرتے ہیں،

’’کسی ایک صحابی سے بھی رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں ہے‘‘۔ہم کہتے ہیں کہ اس سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین ہے جس پر ساری امت کا عمل ہے۔ رکوع کے وقت رفع یدین کرنے میں اختلاف اسی لیے ہے کہ اسے کرنے کا ثبوت حدیثوں میں ہے لیکن اسے چھوڑنے کا ثبوت بھی صحیح حدیثوں میں موجود ہے۔ ایسی متعدد صحیح احادیث آپ اس کتاب میں ملاحظہ فرمائیں گے۔

Share:
keyboard_arrow_up