Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 4 of 107

مستزاد یہ کہ مصنف حفظہ اللّٰہ تعالیٰ نے حدیث قولی و فعلی کو نقل کر کے ہر دو سے اپنے موقف کو محکم ثابت کرتے ہوئے تطبیق بین الحدیثین جو مشکل ترین کام ہے، اتنی وضاحت سے کیا کہ انصاف سے مطالعہ کرنے والا اس کو حق الیقین کے درجے تک کا استحقاق دے گا۔

 

اور درجنوں کتب جن میں صحیح، مسند، مصنف، تک کی بھرمار ہے، جن میں یہ چند بھی شامل ہیں :

صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، مسند امام احمد، مسند امام اعظم ابوحنیفہ، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق، جامع المسانید، شرح معانی الآثار، مسند ابی یعلیٰ، دارقطنی، بیہقی، مسند حمیدی، مسند ابی عوانہ، مؤطا امام محمد، نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایہ وغیرہ ۔

ان کتبِ معتبرہ سے احادیث لے کر ان میں تطبیق و تنسیخ کا حق ادا کر دیا ہے اور تطبیق میں عملِ صحابہ اور تابعین کرام کا ذکر کیا ہے جنہیں زبانِ ترجمانِ نبوت سے خیر القرون میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ کتاب عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جل جلالہٗ مصنف علام کی اس تصنیف منیف کو بشمول سابقہ تصنیفاتِ کثیرہ کے ذریعۂ رشد و ہدایت بنائے۔ آمین ثم آمین

محمد سلیمان رضوی

دارالعلوم انوارِ رضا، راولپنڈی

 

مقدمہ

الحمد لک یا رب العلمین والصلوۃ والسلام علیک یا رحمۃ اللعٰلَمِین

 

دورِ صحابہ ہی سے مسلمان عبادات میں سب سے زیادہ اہتمام نماز کا کرتے۔

صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم اپنے درمیان موجود زیادہ صاحبِ علم صحابی سے دینی مسائل پوچھتے اور ان کی تقلید کرتے۔

دوسری صدی ہجری میں سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ اور ائمہ ثلاثہ نے جب دینی مسائل مدون فرمائے تو احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں نماز کا مکمل طریقہ تحریر فرما دیا۔

جس میں شرائطِ نماز، فرائض و واجبات، سنن ِ مؤکدہ، سننِ غیر مؤکدہ، مستحبات، مفسدات، مکروہات وغیرہ کی تفصیل مذکور ہے۔

غیرمنقسم ہندوستان میں جب غیر مقلد فرقے نے جنم لیا تو انہوں نے اپنی علیحدہ شناخت ظاہر کرنے کے لیے عقائدِ اہلسنت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ بعض فروعی مسائل کو غیر ضروری اہمیت دی۔ رفتہ رفتہ وہ فروعی مسائل وجہ ِ نزاع بنا دیے گئے۔ غیر مقلدین حنفی مسلمانوں کو اکثریہ طعنہ دیتے ہیں،

’’رسول اللّٰہ کے طریقے کے مطابق نماز پڑھنی چاہئے۔تمہاری نماز صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ اپنی نماز کا طریقہ صحاح ستہ سے ثابت کرو، وغیرہ‘‘۔

الحمد للّٰہ! ہمارا قرآن اور ہماری نماز، صحاح ستہ کے وجود میں آنے سے پہلے سے متواتر ہیں۔ اس لیے جس طرح ہم قرآنِ متواتر کے ثبوت کے لیے صحاح ستہ کے محتاج نہیں اسی طرح متواتر نماز کے ثبوت کے لیے بھی ہم صحاح ستہ کے محتاج نہیں۔

صحاح ستہ سے ثبوت پیش کرنے کی ضرورت اُسے ہے جس کی نماز صحاح ستہ کے بعد میں مرتب کی گئی ہو۔ بحمدہٖ تعالیٰ، ہمیں اپنی نماز کے رسول اللّٰہ کی نماز ہونے پر کامل یقین ہے کیونکہ مذاہبِ اربعہ کی نمازیں عملی تواتر سے ثابت ہیں۔

نماز کے متعلق آپ غیرمقلدین کی جو بھی کتاب ملاحظہ فرمائیں، اس میں بعض فروعی مسائل پر بہت زیادہ شدت پائیں گے جبکہ فرائض و واجبات و سنن و مستحبات کی تفصیل ڈھونڈے نہیں ملے گی۔

مثلاً رفع یدین کا مسئلہ لے لیجیے۔ جدید غیر مقلدین اس مسئلہ میں بہت غلو کرتے ہیں اور وہ رکوع کے وقت رفع یدین کو فرض قرار دیتے ہیں۔ حکیم صاحب نے لکھا ہے، رفع یدین کے بغیر نماز کا یقیناً نقصان ہے۔ (صلوۃ الرسول ،ص204)

اس کے حاشیہ میں علیزئی نے لکھا،

اس کے بغیر نماز ناقص اور نامکمل ہے۔ اس پر بعض ائمہ کے اقوال پیش کیے ہیں کہ رفع یدین نماز کا رُکن ہے، اس کے بغیر نماز فاسد ہے ، یا ناقص ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up