تقریظ جلیل
جامع المعقول والمنقول، شیخ الحدیث، رئیس المناطقہ، استاذُ العلماء علامہ مفتی محمد سلیمان رضوی مدظلہ العالی
الحمد للّٰہ رب الارض و السمٰوٰت العلیٰ والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الورٰی محمد ن المصطفیٰ وعلی آلہ المجتبیٰ وصحبہ نجوم الہدیٰ ومن تبعہم من اہل التقیٰ۔اما بعد۔
علم اور اہلِ علم کو ترجیح ہے مطلقاً … جبکہ علم کی ہزاروں اقسام واقعاتی دنیا میں پائی گئیں البتہ احاطۂ تحریر میں کئی درجن… ان کی تقسیم کی جائے تو اجمالاً دو قسم کے علوم… علوم دینیہ اور علوم عصریہ… جب ان میں تقابل ہو تو فضائل میں ترجیح علوم دینیہ کو… پھر ان میں منقولات یعنی قرآن مجید، حدیثِ رسول اور فقہ… کہ جن پر عمل نجات دہندہ ہے۔
قیامت میں ان علوم نقلیہ میں پھر دو اقسام،
1۔عبادات اور 2۔معاملات… جبکہ عبادات میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کو…
اور نماز ہی کے بارے میں سرکار ﷺ نے فرمایا،
اول ما یحاسب بہ العبد یوم القیٰمۃ من عملہ صلوٰتہٗ۔
قیامت میں سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں پر سش ہوگی۔
(ترمذی،ابواب الصلاۃ، باب ما جاء ان الاول ۔۔۔الخ،1/422،حدیث:413مختصراً)
نماز میں چند امور و ارکان و مسائل مختلف فیہ قرار پائے جو واقعہ میں اختلافی نہ تھے۔ صرف ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہونے اور نہ پانے والوں، اور تضادات کے رفع کی قدرت نہ رکھنے والوں، اور ان سے متعلقہ روایات کا احاطہ نہ کرنے والوں کی وجہ سے انہیں مختلف فیہ قرار دیا گیا۔
جن میں سے ایک اہم عنوان ہے رفع یدین، کہ کیا تکبیر تحریمہ کے علاوہ اور کہیں دورانِ نماز رفع یدین کا عمل تھا اور اگر تھا تو کیا وہ دائمی اور مستقر ہے یا منسوخ؟
اس عنوان پر اہلسنت کا موقف کہ:
رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے موقع پر ہے باقی مواقع پر نہیں۔ اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اپنے دور کے محقق عالم شیخِ طریقت پیر سید شاہ تراب الحق صاحب قادری گیلانی مدظلہ العالی خلیفۂ مجاز مفتیٔ اعظم ہند رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے، اور عنوان کی وضاحت کا حق ادا کر دیا ہے۔
پھر طرّہ یہ کہ مخالفین کے استشہادات کو نقل کر کے اتنے مسکت جوابات تحریر فرمائے جو جوابِ لاجواب ٹھہرے۔ اگر کوئی انصاف پسندی سے کام لے کر ضد اور تعصب کی عینک اتار کر اس کتاب کو پڑھے گا تو صاحبِ روح المعانی سلفی کی طرح حنفیت کو ترجیح دینے لگے گا۔
علامہ محمود آلوسی،صاحبِ روح المعانی کے تعارف میں یہ جملہ موجود ہے کہ:
کان سلفی الاعتقاد شافعی المذہب الا انہ فی کثیر من المسائل یقلد الامام الاعظم ابا حنیفۃ النعمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ۔
کہ صاحبِ روح المعانی شافعی المذہب ہونے کے باوجود (ادلّہ کا موازنہ کرتے تو امام اعظم کی ادلّہ میں وزن پاتے اور)امام اعظم کی تقلید کرتے۔ (مقدمہ تفسیر روح المعانی)
روح المعانی سے ایک مثال ملاحظہ ہو۔
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۴۰ کی تفسیر کرتے ہوئے صلوٰۃ خوف میں امام شافعی رحمہ اللّٰہ کا موقف کہ چلتے چلتے بھی نماز ادا کرنا صحیح ہے جبکہ امام اعظم کا موقف یہ کہ چلتے چلتے نہیں بلکہ ’’واقفاً قائماً ‘‘یعنی کھڑے ہوکر نماز ادا کرنا صحیح ہے اس لئے کہ راجلاً او رُکباناً الآیۃ میں راجل بمقابلہ رکبان کے ہے لہٰذا راجل بمعنی واقف علیٰ قدمیہ ہے۔
عبارت: اذ یحتمل ان یکون الراجل فیہا بمعنی الواقف علی رجلیہ۔
یوں اس موقف اور مسئلہ کو امام اعظم کے حق میں ترجیحی انداز میں پیش کرنے کا معنی یہ کہ امام اعظم کا موقف راجح اور امام شافعی کا موقف مرجوح ہے۔

