Rasool e Khuda Ki Namaz

Total Pages: 107

Page 2 of 107

پیشِ لفظ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

 

حضورِ اکرم کا ارشادِ گرامی ہے،

’’ﷲ عزوجل جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرماتا ہے‘‘ ۔
(بخاری،کتاب العلم،باب من یرد اللہ خیرا۔۔الخ،1/42،حدیث:71مختصراً)

 

قرآن و حدیث کی سمجھ حاصل ہونا بلاشبہ رب تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ علماءِ حق نے دین کی سمجھ کے حصول کے لیے اپنی زندگیاں صرف کر دیں پھر بھی خود کو طالبِ علم سمجھتے رہے۔

جبکہ اس پُرفتن دور میں بعض لوگوں کا حال یہ ہے کہ چند اردو کتب پڑھ کر وہ خود کو محدث اور جرح و تعدیل کا امام سمجھنے لگتے ہیں اور اہلسنت حنفی مسلمانوں کی نماز کو خلافِ سنت اور احادیث کے مقابل اماموں کی نماز گردانتے ہیں۔ العیاذ باللّٰہ

 

مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،امام اجل سفیان بن عیینہ رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے،

الحدیث مضلۃ الا للفقھاء۔

’’حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے سوائے مجتہدوں کے‘‘۔

 

اس کی شرح میں امام ابن الحاج مکی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’ان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کبھی ظاہر حدیث سے جو معنے سمجھ میں آتے ہیں ان پر جم جاتا ہے حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے۔ یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں، یا متعدد اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان سب باتوں پر قدرت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو علم کا دریا بنا اور منصبِ اجتہاد تک پہنچا یعنی فقیہ ہوا‘‘۔ (المدخل ، لابن  الحاج، ج1، ص128)

 

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا،

’’ﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے میری حدیث سن کر اچھی طرح یاد کی اور پھر اسےدوسروں تک پہنچایا۔ کیونکہ اکثر کو حدیث یاد ہوتی ہے مگر وہ اس کے فہم و فقہ کی قابلیت نہیں رکھتے یعنی وہ غیر فقیہ ہوتے ہیں اور وہ اسے ان تک پہنچا دیتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کے فقیہ ہوتے ہیں‘‘۔

 

اس حدیث کے تحت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،

اگر فقط حدیث معلوم ہو جانا فہمِ حکم کے لیے کافی ہوتا تو اس ارشادِ اقدس کے کیا معنی تھے؟ (فتاوی رضویہ،27/74)

 

معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کا کامل طور پر سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں۔ عصرِ حاضر میں غیر مقلدین نے بیرونی امداد کے بل بوتے پر حنفی مسلمانوں کی نماز کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے۔

اس حوالے سے عوام کے اصرار پر فقیر نے ابتداءً رفع یدین کے مسئلہ پرقلم اٹھایا۔ بعد میں بعض احباب کے ارشاد کی تعمیل میں قرأۃ خلف الامام و دیگر مسائل پر بھی مختصر کلام کیا۔

میں عزیزم انجینئر حافظ محمد آصف قادری زِید مجدہٗ کے لیے خاص طور پر دعا گو ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کے حوالہ جات کی تخریج، ترتیب، کمپوزنگ اور طباعت میں دن رات محنت کی۔ رب کریم انہیں فلاحِ دارین سے نوازے۔ آمین

 

میں ان علماء کرام کا ممنون و مشکور ہوں جنہوں نے اپنی گراں قدر کتب حوالوں کے لیے عطا فرمائیں۔

خاص طورپر شیخ الحدیث مفتی عبدالرزاق بھترالوی مدظلہ العالی کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے مکمل مسودہ پڑھا اور قیمتی مشوروں سے نوازا۔

مفتی محمد سلیمان رضوی صاحب اور مفتی عبدالشکور الباروی صاحب کا بھی ممنون ہوں کہ ان کی ذاتی لائبریری سے بھی حوالہ جات میں معاونت ملی۔ فجزاھم اللّٰہ تعالیٰ احسن الجزاء

 

اہلِ علم اس کتاب میں کوئی غلطی پائیں تو فقیر کو آگاہ فرمائیں، اصلاح کی جائے گی۔ دعا ہے کہ رب تعالیٰ تمام معاونین کو اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور اس کتاب کو نافع خلائق بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین  

سید شاہ تراب الحق قادری

Share:
keyboard_arrow_up