Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 9 of 90

جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزء میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روحِ مصطفیٰ کی حقیقت کائنات کے ہر ذرے میں جاری وساری ہے،جس کی بنا پر جانِ کائنات  تمام کائنات کو اپنی ہتھیلی مبارک کی طرح ملاحظہ فرماتے ہیں۔دور و نزدیک کی آوازیں یکساں سنتے ہیں، اپنی امت کے اعمال، احوال اور ان کی دلی کیفیات بھی جانتے ہیں۔

نیز اپنی روحانیت و نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہو سکتے ہیں، حضور  کے حاضر و ناظر ہونے کا یہی مفہوم ہے۔ مالكِ كُل خَتْمُ الرُّسُل صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب اور نائب مطلق ہیں۔ رب تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے تمام جہان آقا و مولی کا محکوم اور تابع فرمان ہے۔ آپ کو شریعت کا مالک و مختار بنایا گیا، جس پر جو چاہیں حلال فرما ئیں اور جو چاہیں حرام فرما ئیں۔ آپ کی اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے جو آپ کے حکم سے راضی نہ ہوا، گویا وہ رسالت کا منکر ہے۔

سرکارِ دو عالم نورِ مجسم سب مخلوق سے افضل و اعلیٰ ہیں، جس کو جو بھی اوصاف و کمالات دیے گئے وہ سب حضور کو عطا فرمائے گئے بلکہ آپ کو ایسے کمالات بھی عطا فرمائے گئے جو کسی کو نہیں دیے گئے ۔ حقیت یہ ہے کہ جس کو جو بھی ملا ہے وہ آپ ہی کے طفیل بلکہ آپ کے دست اقدس سے ملا ہے۔

حضور کا فرمان عالیشان ہے:

”بیشک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ عطا فرمانے والا ہے۔“

کثیر احادیث سے ثابت ہے کہ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان بارگاہِ نبوی میں مشکل کشائی کے لیے فریاد کرتے، آپ کو قضائے حاجات کے لیے وسیلہ بناتے اور آپ اللّٰہ تعالیٰ کے دیے ہوئے قدرت و اختیار سے ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی فرماتے۔

اس موضوع پر فقیر کی کتاب ”ضیاء الحدیث“ کے پہلے باب میں متعدد احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

آقائے دو جہاں کو جو خصائص اور کمالات عطا فرمائے گئے ، اُس بحر بیکراں میں سے قرآن کریم کی روشنی میں دو سو (۲۰۰) خصائص اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بھی دوسو (۲۰۰) خصائص، فقیر نے اپنی کتاب ” جمال مصطفی میں تحریر کیے ہیں ، اہلِ ذوق و محبت اس ایمان افروز کتاب کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

فرشتوں پر ایمان: فرشتے نورسے پیدا کیے گئے، وہ نہ مرد ہیں نہ عورت۔وہ مومن، متقی و عبادت گزار ہیں۔ فرشتے کھانے پینے سے پاک اور ہر قسم کی خطا و گناہ سے معصوم ہیں۔ انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کر سکتے ہیں۔

انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے بے پناہ قوت عطا فرمائی ہے اور بہت سے کام ان کے سپرد کیے ہیں۔ کسی کے ذمہ جان نکالنا، کسی کے ذمہ بارش برسانا، کسی کے ذمہ رزق دینا، کسی کے ذمہ انسانی جسم میں تصرف کرنا، کسی کے ذمہ نامہ اعمال لکھنا، کسی کے ذمہ بارگاہ رسالت میں حاضری، کسی کے ذمہ مجالس ذکر میں شرکت وغیرہ بیشمار کام ملائکہ انجام دیتے ہیں۔

چار فرشتے سب ملائکہ میں افضل ہیں۔

1۔حضرت جبرئیل،

2۔حضرت میکائیل،

3۔حضرت اسرافیل

4۔اور حضرت عزرائیل علیہم السلام۔

() کسی فرشتے کے ساتھ ادنیٰ سی گستاخی کفر ہے۔ جاہل لوگ اپنے کسی دشمن یا سختی کرنے والے کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ملکُ الموت یا عزرائیل آگیا، یہ کہنا کفر کے قریب ہے۔

فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا یہ کہنا کہ فرشتہ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں، یہ نظریات کفر ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up