Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 10 of 90

آسمانی کتب پر ایمان: اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت، حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور، حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل اور بعض نبیوں پر صحیفے نازل فرمائے ۔

اللّٰہ تعالیٰ نے جو کتابیں نازل فرمائیں سب حق ہیں البتہ وہ اب اصل حالت میں موجود نہیں ہیں، پچھلی امتوں نے ان میں تحریف کر دی اور احکامِ الٰہی کو تبدیل کر دیا۔ پھر اللّٰہ تعالی نے بے مثل رسولپر بے مثل و بے مثال کتاب قرآن کریم نازل فرمائی اور اس کی حفاظت اپنے ذمہ لی۔

سب جن اور انسان مل کر کوشش کریں تب بھی اس میں ایک حرف کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسکی مثل کوئی آیت بنائی جا سکتی ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ جو یہ کہے کہ قرآن کریم میں کسی نے کچھ گھٹا دیا ، یا بڑھا دیا، یا اصلی قرآن غائب امام کے پاس ہے وہ کافر ہے۔ یہی اصل قرآن ہے اور اس پر ایمان لانا ہر شخص پر لازم ہے۔

آخرت پر ایمان: اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہر شخص کی زندگی مقرر ہے، نہ اس میں کمی ہو سکتی ہے اور نہ زیادتی۔ جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو حضرت عزرائیل علیہ السلام روح قبض کر لیتے ہیں اس کا نام موت ہے۔ قبر میں عذاب یا نعمتیں ملنا حق ہے اور یہ روح و جسم دونوں کے لیے ہے، اس لیے موت کے بعد بھی روحوں کا تعلق جسم سے قائم رہتا ہے۔ جو ان کی قبر پر آئے وہ اسے دیکھتے، پہچانتے اور اس کا کلام سنتے اور جواب دیتے ہیں۔

اگر جسم جل جائے یا گل جائے یا خاک ہو جائے پھر بھی اس کے اجزائے اصلیہ قیامت تک باقی رہتے ہیں اور ان اجزا اور روح کا باہمی تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے اور یہ دونوں عذاب و ثواب سے آگاہ و متاثر ہوتے ہیں۔

بیشک ایک دن زمین و آسمان، جن و انسان، فرشتے اور دیگر تمام مخلوق فنا ہو جائے گی اس کا نام قیامت ہے، اس کا واقع ہونا حق ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔

دنیا میں جو روح جس جسم کے ساتھ تھی اس کا حشر اسی جسم میں ہوگا، اللّٰہ تعالیٰ اس جسم کے تمام اجزا کو جمع فرما کر قیامت میں پھر زندہ کرے گا اور سب کے اعمال کا حساب ہو گا۔

مسلمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

آقا و مولیٰ کی شفاعت کئی قسم کی ہے: شافعِ محشر کی شفاعت کبریٰ سے تمام اہلِ محشر کو حساب کتاب کے انتظار سے نجات ملے گی۔ آپ کی شفاعت سے بہت سے لوگ بلاحساب جنت میں داخل ہونگے ، بہت سے مستحق جہنم ، جہنم میں جانے سے بچ جائیں گے، بہت سے جہنم سے نکال لیے جائیں گے، بہت سے اہل جنت کے درجات بلند کیے جائیں گے۔

شفاعت کا منکر گمراہ اور بد مذہب ہے۔ حضور کے بعد سب انبیاء کرام اپنی امتوں کی شفاعت فرمائیں گے پھر اولیاء کرام، شہداء، علماء حق ، حفاظ ، حجاج اور ہر دینی منصب پر فائز مسلمان اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کریں گے یہاں تک کہ فوت شدہ نابالغ بچے اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے۔

اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کی تفصیل جاننے کے لیے صدر الشریعہ حضرت علامہ مولانا امجد علی اعظمی قادری رحمتہ اللہ علیہ کی عظیم الشان تصنیف ”بہارِ شریعت“ یا فقیر کی کتاب ”اسلامی عقائد“ ملاحظہ فرمائیں۔

محبوبانِ خدا سے استعانت سوال : کیا محبوبانِ خدا سے ان کے وصال کے بعد مدد مانگنا جائز ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب : استعانت کی دو قسمیں ہیں، حقیقی اور مجازی۔

حقیقی استعانت یہ ہے کہ کسی کو قادر بالذات، مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اس کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے، غیر خدا کیلئے ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام کے متعلق ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔

مجازی استعانت یہ ہے کہ کسی کو اللّٰہ تعالی کی مدد کا مظہر، حصول فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جان کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قطعاً حق ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up