قرآن کریم سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
(1)۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کو مددگار بنانے کی دعا کی جو قبول ہوئی۔
(2)۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے حواریوں سے مدد مانگی۔
(3)۔ ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا۔
(4)۔ حضرت ذوالقرنین نے لوگوں سے مدد مانگی۔
(5)۔ نیک کاموں میں مسلمانوں کو مددگار بننے کا حکم دیا گیا۔
(6)۔ ایک مقام پر صالحین اور فرشتوں کا مددگار ہونا یوں بیان فرمایا گیا، ”بیشک اللّٰہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں“ ۔
(7)۔ ایک جگہ اللّٰہ تعالیٰ، ”حضورﷺ اور صالحین کا مددگار ہونا یوں بیان ہوا،
”بیشک تمہارے مددگار تو صرف اللّٰہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللّٰہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں“۔
ان دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ حقیقی مددگار و مشکل کشا اللّٰہ تعالی ہی ہے اور اس کی عطا سے اس کے محبوب بندے بھی مددگار ہوتے ہیں۔ جب ہم آقا و مولی ﷺ یا کسی صحابی (رضی اللّٰہ عنہ)یا کسی ولی اللّٰہ (رحمۃاللہ علیہ ) سے مدد مانگتے ہیں تو ہمارا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں مدد کرنے کی قدرت عطا فرمائی ہے اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کی مرضی سے ہماری مدد کریں گے۔ اگر اللّٰہ تعالیٰ نہ چاہے تو یہ ہماری مدد نہیں کر سکتے۔ پس محبوبان خدا کو مددگار و متصرف سمجھنا اور ان سے مدد مانگنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا مددگار و مشکل کشا ہونا بالذات اور مخلوق سے بے نیاز و غنی ہو کر ہے، جبکہ انبیاء کرام، اولیاء عظام اور مومنوں کا مددگار و مشکل کشا ہونا اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے ہے اور یہ سب اللّٰہ تعالیٰ کے فضل وکرم کے محتاج ہیں نیز ان کا تصرف واختیار اور ان کی طاقت و قدرت اذنِ الہٰی کے تابع ہے۔
امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
” ہمارے نزدیک اولیاء اللّٰہ سے ان کے وصال کے بعد مدد مانگنے کا مفہوم یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور اس مقرب بندے کو وسیلہ بناتا ہے اور یوں عرض کرتا ہے،
”اے اللّٰہ ! اپنے اس نیک بندے کی برکت سے جس پر تو نے لطف وکرم فرمایا ہے، میری حاجت کو پورا فرما کیونکہ تو ہی عطا فرمانے والا اور کریم ہے۔“
یا حاجت مند اس مقرب بندے کو پکارتا ہے،” کہ اے اللّٰہ کے نیک بندے اور اس کے ولی ! میری شفاعت کرو اور اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میری حاجت پوری ہو جائے ۔“ اگر یہ معنی شرک ہے جیسا کہ منکر گمان کرتا ہے تو پھر چاہیے کہ اولیاء سے ان کی ظاہری زندگی میں بھی تو سل اور دعا کی درخواست کرنا منع ہو جبکہ یہ بالا تفاق مستحب و مستحسن اور دین میں رائج ہے۔
ارواح کاملین سے مدد مانگنے اور فائدہ حاصل کرنے کے بارے میں اہلِ کشف سے جو واقعات مروی ہیں وہ گنتی سے باہر ہیں، ان کے رسائل وکتب میں مذکور اور مشہور ہیں، یہاں ان کے ذکر کی ضرورت نہیں ۔ شاید متعصب منکر کے لیے ان کے کلمات مفید بھی نہ ہوں، خدا ہمیں اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ہم نے اس جگہ طویل کلام منکروں کی ناک خاک آلود کرنے کے لیے کیا ہے کیونکہ ہمارے زمانے میں چند لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو اُن اولیاء اللّٰہ سے مدد مانگنے کے منکر ہیں جو بعد وصال اللّٰہ تعالیٰ کے نزد یک زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں لیکن ان لوگوں کو ان کی زندگی اور خوشحالی کا شعور نہیں ہے۔ یہ لوگ اولیاء اللّٰہ کی طرف توجہ کرنے والوں کو مشرک اور بت پرست سمجھتے ہیں اور جو منہ میں آئے بک دیتے ہیں۔

