شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کا وصال ۱۰۵۲ ھ میں ہوا، اس سے ثابت ہوا کہ ایک ہزار سال تک امتِ مسلمہ میں محبوبانِ خدا سے مدد مانگنے اور ان کا وسیلہ اختیار کرنے کے منکر پیدا نہیں ہوئے تھے، یہ بری بدعت گیارھویں صدی ہجری میں شروع ہوئی۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سره ”بر كات الامداد لاهل الاستمداد“ میں فرماتے ہیں،
”اس استعانت ہی کو دیکھئے کہ جس معنی پر غیر خدا سے شرک ہے یعنی قادر بالذات و مالک مستقل جان کر مدد مانگنا، ان معنوں میں ہی اگر بیماری کے علاج میں طبیب یا دوا سے استمداد کرے یا فقیری کی حاجت میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائے بلکہ کسی سے روزمرہ کے معمولی کاموں میں مدد لے جو یقینا تمام وہابی حضرات روزانہ اپنی عورتوں ، بچوں ، نوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیں مثلا یہ کہنا کہ فلاں چیز اٹھا دے یا کھانا پکا دے، سب قطعی شرک ہے جب کہ یہ جانا کہ اس کام کے کر دینے پر خود انہیں اپنی ذات سے بے عطائے الہی قدرت ہے تو صریح کفر وشرک میں کیا شبہ رہا؟ اور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرک نہیں یعنی اللّٰہ تعالی کی مدد کا مظہر، واسطہ، وسیلہ اور سبب جان کر تو انہی معنوں میں انبیاء کرام و اولیاء عظام سے مدد مانگنا شرک کیونکر ہوگا ؟‘‘اس اعتراض کے جواب میں کہ زندوں سے مدد مانگنا جائز اور بعد وصال مدد مانگنا ناجائز ہے،
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
” جوشرک ہے وہ جس کے ساتھ کیا جائے گا شرک ہوگا اور اگر ایک کےلیے شرک نہیں تو وہ کسی کے لیے شرک نہیں ہوسکتا۔ کیا اللّٰہ کے شریک مردے نہیں ہو سکتے زندے ہو سکتے ہیں؟ دور کے نہیں ہو سکتے پاس کے ہو سکتے ہیں؟ انبیاء نہیں ہو سکتے حکیم ہو سکتے ہیں؟ انسان نہیں ہو سکتے فرشتے ہو سکتے ہیں؟ حاشا للّٰہ ! اللّٰہ عز وجل کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔“
حق وانصاف کی راہ پر چلنے والوں کے لیے ان شاء اللّٰہ یہ دلائل بھی کافی ہونگے۔ اس موضوع پر تفصیلی اور مدلل گفتگو فقیر کی کتاب ’’تصوف وطریقت‘‘ کے باب نہم میں ملاحظہ فرمائیں۔
باب دوم
ارکانِ اسلام نماز کی اہمیت اور عورتوں کی نماز:
سوال: قرآن و حدیث کی روشنی میں نماز کی اہمیت اور فضیلت کا بیان نیز عورتوں کی نماز کن معاملات میں مردوں سے مختلف ہے؟
جواب: ایمان اور عقائد کی درستگی کے بعد تمام فرائض میں سب سے اہم جزء ہے۔
ارشاد باری تعالی ہوا:
”اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔
دوسری جگہ فرمایا:
”نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز (عصر)۔“
ایک جگہ بے نمازیوں کے لیے وعید فرمائی گئی:
”تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ نا خلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں (یعنی ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے۔“
غی دوزخ کے نچلے حصے میں ایک کنواں ہے جس میں اہلِ دوزخ کی گرفت ہوتی ہے،
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جہنم کی سب سے زیادہ گرم اور گہری جگہ ہے اور اس میں ایک کنواں ہے جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کنوئیں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑ کنے لگتی ہے۔ یہ کنواں بے نمازیوں، زانیوں، شرابیوں، سود خوروں اور والدین کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔
صدر الشریعہ علامہ مولانا امجد علی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں،
”نماز کو مطلقاً چھوڑ دینا تو سخت ہولناک بات ہے نماز قضا کرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ فرماتا ہے، خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سےبے خبر ہیں، وقت گزار کر پڑھنے اٹھتے ہیں۔
جہنم میں ایک وادی ہے جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے اس کا نام ویل ہے قصداً نماز قضا کرنے والے اس کے مستحق ہیں۔

