Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 13 of 90

آقا و مولیٰ نے صحابَۂ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا:

”اگر کسی دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا ! بدن پر کچھ میل باقی رہے گا ؟ عرض کی ، بالکل نہیں۔ ارشاد فرمایا: یہی مثال نمازوں کی ہے کہ ان کی برکت سے اللّٰہ تعالیٰ سب گناہ مٹا دیتا ہے۔“

یہاں گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں، کبیرہ گناہ سچی توبہ سے اور حقوق ادا کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔

آقائے دو جہاں کا ارشاد گرامی ہے:

بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔

دوسری جگہ فرمایا:

نماز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے دین ڈھا دیا۔

ایک حدیث پاک میں ”پابندی سے سب نماز یں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے والوں کو مغفرت کی خوشخبری دی گئی۔“

ان آیات کریمہ و احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان بالغ مرد و عورت پر پانچوں وقت نماز کی پابندی لازم ہے نیز تمام حقوق و آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خشوع و خضوع سے نماز ادا کرنی چاہیے۔

نماز کی ایک اہم شرط طہارت ہے۔ بعض خواتین نیل پالش لگاتی ہیں جس کے باعث ان کا وضو نہیں ہو پاتا یونہی غسل یا تیمم کرنے سے بھی انہیں پاکی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ ناخنوں پر پالش کی تہہ جم جاتی ہے اس لیے نیل پالش دور کرنا اور ایسی چیزوں سے بچتے رہنا طہارت کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہے البتہ مہندی کا رنگ جائز ہے۔

خواتین وضو یا غسل کے وقت اس بات کی احتیاط رکھیں کہ ہر عضو پر پانی بہہ جائے۔ لہٰذا انگوٹھی، چھلے، نتھ اور دیگر زیورات ہٹا کر ان کی جگہ پانی پہنچانا اور تیمم کی صورت میں ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔

اب ہم عورتوں کی نماز سے متعلق خاص خاص باتیں تحریر کرتے ہیں:

نماز سے قبل خواتین کو اس بات کا اطمینان کر لینا چاہیے کہ ان کے چہرے، ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے سوا تمام جسم دبیز کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ ایسا باریک کپڑا جس سے بدن کی رنگت جھلکتی ہو یا ایسا باریک دو پٹہ جس سے بالوں کی سیاہی چمکے ستر یعنی پردے کے لیے کافی نہ ہوگا ایسا لباس یا دوپٹہ وغیرہ پہن کر نماز پڑھی تو نماز نہ ہوگی۔ گردن، کان، سر کے لٹکتے ہوئے بال اور کلائیاں چھپانا بھی فرض ہے۔

چہرے، ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کے سوا کوئی عضو نماز شروع کرتے وقت چوتھائی مقدار میں کھلا ہو اور اسے چھپائے بغیر اللّٰہ اکبر کہہ لیا تو نماز شروع ہی نہ ہوئی۔ اور اگر نماز کے دوران کوئی عضو چوتھائی کے برابر اتنی دیر کھلا رہا جس میں تین بار سبحان اللّٰہ کہا جا سکے تو نماز نہ ہوئی۔

خواتین نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ کانوں کی بجائے صرف کندھوں تک اٹھا ئیں اور انہیں دوپٹوں سے باہر نہ نکالیں، پھر تکبیر تحریمہ کہہ کر بائیں ہتھیلی سینے پر رکھ کر اس کی پشت پر دائیں ہتھیلی رکھیں۔

رکوع کرتے وقت صرف اتنا جھکیں کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ،انگلیاں باہم ملی ہوئی ہوں اور گھٹنوں کو آگے کی طرف ذرا سا خم دے کر کھڑی رہیں، نیز ان کے بازو پہلوؤں سے ملے ہوئے ہوں۔

خواتین سجدہ سمٹ کر کریں یعنی پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے اور بازو پہلوؤں سے ملا دیں اور کلائیاں زمین پر بچھا دیں نیز پاؤں کھڑے کرنے کی بجائے دائیں طرف نکال کر بچھا دیں۔

قعدہ میں دونوں پاؤں دائیں جانب نکال دیں اور بائیں کولھے پر بیٹھیں۔ خواتین کیلئے گھر کے اندر یعنی کمرے میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے اور تہہ خانے میں نماز پڑھنا کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up