Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 14 of 90

آقا و مولیٰ کے زمانَۂ اقدس میں عورتوں کو باجماعت نماز کے لیے مساجد میں آنے کی اجازت تھی لیکن جب فتنہ ظاہر ہونے لگا تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے انہیں مساجد میں آنے سے منع فرما دیا۔

بعض خواتین نے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس آکر شکایت کی کہ ہمیں مسجد آنے سے روک دیا گیا ہے۔

تو آپ نے ارشاد فرمایا، ”اگر نبی کریم ہمارے زمانے کی عورتوں کو ملاحظہ فرماتے تو آپ بھی عورتوں کو مسجد جانے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کر دیا تھا۔

اسی لیے فقہاء کرام رحمہم اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا، خواتین کو کسی بھی باجماعت نماز کے لیے مسجد جانا منع ہے خواہ دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ کی ہو یا عیدین کی عورت چاہے جوان ہو یا بوڑھی۔

حیض ونفاس اور استحاضہ کے مسائل

سوال : حیض و نفاس اور استحاضہ میں کیا فرق ہے؟ ان کے بارے میں شرعی احکام اور ضروری مسائل بیان فرمائیے۔

جواب : ارشاد باری تعالی ہے،’’اے محبوب  تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم، تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں میں، اور ان سے نزد یکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہو لیں، پھر جب پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللّٰہ نے حکم دیا، بیشک اللّٰہ پسند کرتا ہے بہت تو بہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔“

حدیث شریف میں ہے کہ: یہودیوں میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اسے نہ اپنے ساتھ کھلاتے پلاتے اور نہ ہی اسے اپنے گھر میں رکھتے۔ صحابہ کرام نے اس بارے میں دریافت کیا تو مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور آقا و مولی نے فرمایا، ایام حیض میں جماع کے سوا دیگر معاملات برقرار رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں، میں حالت حیض میں پانی پیتی پھر وہ برتن حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرتی تو آپ وہیں دہن اقدس رکھ کر پانی پیتے جس جگہ میرا منہ لگا تھا اور میں حیض کی حالت میں ہڈی سے گوشت نوچ کر کھاتی اور پھر حضور کو دے دیتی ، آقامیرے منہ لگانے کی جگہ اپنا دہن مبارک رکھ کر تناول فرماتے ۔

مذکورہ آیت و احادیث کریمہ کی روشنی میں فقہاء کرام فرماتے ہیں،” کہ حیض و نفاس کی حالت میں جماع حرام ہے اور ناف سے گھٹنے تک عورت کے جسم کو اس کے شوہر کا چھونا بھی جائز نہیں جبکہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو البتہ ناف سے اوپر اور گھٹنوں سے نیچے کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں۔

صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ بالغہ عورت کے بدن میں فطری طور پر ضرورت سے کچھ زائد خون پیدا ہوتا ہے تاکہ حمل کے دنوں میں وہ خون بچے کی غذا میں کام آئے اور بچے کے دودھ پینے کے زمانے میں وہ دودھ بن جائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حمل اور دودھ پلانے کے ایام میں عورت کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو جائے ۔

یہی وجہ ہے کہ حمل اور دودھ پلانے کے ابتدائی ایام میں خون نہیں آتا اور ان حالات کے علاوہ اگر یہ زائد خون حیض کی صورت میں بدن سے نہ نکلے تو عورت کو قسم قسم کی بیماریاں لاحق ہو جائیں۔

بالغہ عورت کے بدن سے کم از کم پندرہ دن پاکیزہ رہنے کے بعد جو خون عادت کے طور پر نکلتا ہے وہ حیض ہے، جو خون بچے کی پیدائش کے بعد آئے اسے نفاس کہتے ہیں اور جو خون بیماری کے باعث آئے وہ استحاضہ کہلاتا ہے۔ کم سے کم نو برس کی عمر سے حیض شروع ہوتا ہے اور حیض آنے کی انتہائی عمرپچپن سال ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up