حیض کی مدت کم سے کم تین دن اور تین راتیں یعنی پورے بہتر (۷۲) گھنٹے ہے۔ اگر مدت اس سے کم ہو تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن اور دس راتیں ہیں، اس مدت سے زیادہ خون آئے تو اگر یہ حیض پہلی بار ہے تو دس دن تک حیض ہے اور باقی دن استحاضہ ۔ اور اگر پہلے بھی حیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی ہے تو عادت سے جتنا زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی حیض کی عادت سات دن تھی اور اب بارہ دن خون آیا تو سات دن حیض کے ہوئے اور باقی پانچ استحاضہ کے۔ اور اگر کوئی عادت مقرر نہ تھی تو پچھلی بار جتنے دن حیض کے تھے وہی اب بھی مانے جائیں گے اور باقی استحاضہ ہو گا۔
دو حیض کے درمیان اور اسی طرح حیض و نفاس کے درمیان بھی پندرہ دن کا وقفہ ضروری ہے۔ اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن سے قبل خون آجائے تو وہ استحاضہ ہو گا، یونہی حمل والی عورت کو جو خون آئے وہ بھی استحاضہ ہو گا۔
نفاس کی کم سے کم کوئی مدت مقرر نہیں اور اس کی انتہائی مدت چالیس دن رات ہے۔
بعض جگہ رواج ہے کہ خواتین چلہ پورا کیے بغیر نماز شروع نہیں کرتیں اگرچہ نفاس ختم ہو چکا ہو، یہ جہالت ہے۔ جیسے ہی نفاس ختم ہو اسی وقت غسل کر کے نماز شروع کر دیں اور اگر نہانے سے بیماری کا اندیشہ ہو تو تیمم کر کے نماز ادا کریں۔ حیض و نفاس کی حالت میں قرآن پاک پڑھنا یا چھونا ، مسجد میں جانا، طواف کرنا، سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر کرنا حرام ہے۔ اگر جزدان میں قرآن کریم ہو تو اس جزدان کا چھونا جائز ہے۔ اس حالت میں قرآن کریم کے علاوہ تمام وظائف و اذکار کلمہ شریف درود شریف وغیرہ پڑھنا کراہت کے بغیر جائز بلکہ مستحب ہے البتہ پڑھنے سے قبل کلی کرنا یا وضو کرنا بہتر ہے۔
ان دنوں میں نمازیں معاف ہیں اور ان کی قضا بھی نہیں البتہ ان ایام کے روزے دوسرے دنوں میں رکھنا فرض ہے۔ نمازوں کے اوقات میں وضو کر کے اتنی دیر تک درود شریف اور دوسرے اذکار پڑھنا مستحب ہے جتنی دیر میں نماز ادا ہوتی ہے تا کہ نمازوں کی عادت قائم رہے اور بیش بہا اجر و ثواب بھی ملے۔
استحاضہ میں نہ نماز معاف ہے اور نہ روزہ، اور صحبت بھی جائز ہے۔ اس حالت میں ہر نماز نئے وضو سے ادا کی جائے۔ استحاضہ والی عورت اگر غسل کر کے ظہر کی نماز آخر وقت میں اور وضو کر کے عصر کی نماز اول وقت میں اور پھر غسل کر کے مغرب کی نماز آخر وقت میں اور پھر وضو کر کے عشاء کی نماز اول وقت میں پڑھے اور فجر بھی غسل کر کے پڑھے تو بہتر ہے اور عجب نہیں کہ یہ ادب جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی رعایت کی برکت سے اس کے مرض کو بھی فائدہ پہنچے ۔
طہارت کے مسائل
سوال : غسل اور تیمم کے متعلق کن باتوں کا جاننا زیادہ ضروری ہے ؟ یہ بھی ارشاد فرمائیے کہ ناپاک کپڑوں کو کیسے پاک کیا جائے ؟
جواب : آقا و مولی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے جہاں تصویر، کتا یا حالت جنابت میں کوئی شخص ہو۔“
یعنی جس پر غسل واجب ہو، اسے پاکی حاصل کرنے کیلئے جلدی کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ غسل یا وضو کیسے پانی سے کیا جائے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ پانی بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ یعنی قدرتی حالت میں ہو نیز پانی استعمال شدہ نہ ہو۔ اگر بدن پر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جو پانی وضو یا غسل کرنے میں بدن سے گرے وہ پاک ہے مگر اس سے وضو یا غسل جائز نہیں ۔ اسی طرح اگر بےوضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا ناخن یا بدن کا وہ حصہ جو دُھلا نہ ہو، یا جس پر غسل فرض ہے اس کے جسم کا بے دھلا حصہ پانی میں پڑ جائے یا پانی سے چھو جائے تو وہ پانی مستعمل ہو گیا، اب اس سے وضو یا غسل نہیں ہو سکتا۔ اس کا پینا اور اس سے آٹا گوندھنا مکروہ ہے البتہ اسے کپڑے دھونے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

