Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 16 of 90

مستعمل پانی کو وضو یا غسل کے لیے استعمال کے قابل بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اچھا پانی اس سے زیادہ اس میں ملا دیں یا اس میں اتنا پانی ڈالیں کہ برتن کے کناروں سے بہنے لگے، اب اس پانی سے وضو یا غسل جائز ہے۔

غسل میں تین فرض ہیں:

1: ۔ غرغرہ کرنا : یعنی منہ بھر کر اس طرح کلی کرنا کہ ہونٹ سے حلق کی جڑ تک پانی پہنچ جائے۔

2: ۔ناک میں ہڈی تک پانی پہنچانا تاکہ دونوں نتھنوں میں ہڈی تک کوئی جگہ خشک نہ رہے۔

3: ۔سارے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔ اگر دانتوں میں گوشت کے ریشے وغیرہ پھنسے ہوں تو انہیں صاف کرنا ضروری ہے اسی طرح ناک میں میل جم گئی ہو تو اسے صاف کر کے پانی سخت ہڈی کے شروع تک پہنچانا بھی لازم ہے البتہ روزے کی حالت میں مبالغہ سے بچنا چاہیے ۔ جسے وضو یاغسل کی حاجت ہو مگر اسے پانی استعمال کرنے پر قدرت نہ ہو اسے تیمم کرنا چاہیے۔ اس کی چند اہم صورتیں درج ذیل ہیں:

چاروں طرف ایک ایک میل تک پانی کا پتہ نہ ہو، یا ایسی بیماری ہو کہ پانی کے باعث شدید بیمار ہونے یا دیر میں اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو خواہ یہ اس نے خود آزمایا ہو یا کسی مستند و قابل طبیب نے بتایا ہو، یا اتنی سخت سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہ ہو جس سے نہانے کے بعد سردی سے بچ سکے یا ٹرین یا بس وغیرہ سے اتر کر پانی استعمال کرنے میں گاڑی چھوٹ جانے کا خدشہ ہو، یا وضو، غسل کرنے کی صورت میں نماز عیدین نکل جانے کا گمان ہو ۔

تیمم میں تین فرض ہیں:

اول: نیت کرنا کہ یہ تیمم وضو یا غسل یا دونوں کی پاکی کے لیے ہے۔

دوم: سارے منہ پر اس طرح ہاتھ پھیرنا کہ بال برابر جگہ بھی باقی نہ رہے۔

سوم: دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا کہ کوئی حصہ باقی نہ رہے۔

تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کر کے بسم اللّٰہ پڑھ کر دونوں ہاتھ زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی کسی چیز (مثلا مٹی، پتھر، ماربل یا ایسی چیز جس پر کافی گرد و غبار ہو) پر مارے اور دونوں ہاتھ سارے منہ پر پھیر لے کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے پھر دوبارہ مٹی یا پتھر پر ہاتھ مارے اور پہلے دائیں ہاتھ کا اس طرح مسح کرے کہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کا پیٹ دائیں ہاتھ کی پشت پر رکھے اور انگلیوں کے سرے سے کہنی تک لے جائے اور پھر وہاں سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے دائیں ہاتھ کے پیٹ (یعنی اندرونی طرف ) پر پھیرتے ہوئے گٹے تک لائے اور بائیں انگوٹھے کے پیٹ سے دائیں انگوٹھے کی پشت کا مسح کرے۔ اسی طرح دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا مسح کرے۔

خواتین وضو غسل اور تیمم کے لیے یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ انگوٹھی، چھلے، نتھ، چوڑیاں اور نیل پالش وغیرہ ہٹا کر یا اتار کر جلد کے ہر حصہ پر پانی پہنچانا یا ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔ بیماری میں اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے تو گرم پانی استعمال کرنا چاہیے اگر گرم پانی نہ ملے تو تیمم کیا جائے۔ یونہی اگر سر پر پانی ڈالنا نقصان کرتا ہے تو گلے سے نہائے اور گیلا ہاتھ پھیر کر پورے سر کا مسح کرے۔ اسی طرح اگر کسی عضو پر زخم کے باعث پٹی بندھی ہو یا پلاستر چڑھا ہو تو ہاتھ گیلا کر کے اس پٹی کے اوپر پھیر دیا جائے اور باقی جسم کو پانی سے دھویا جائے۔

اگر نماز کا وقت اتنا کم رہ گیا کہ وضو یا غسل کرنے کی صورت میں نماز قضا ہو جائے گی تو تیمم کر کے نماز پڑھ لینی چاہیے البتہ وضو یا غسل کر کے اس نماز کو دہرانا ضروری ہے۔ جس عذر کے باعث تیمم کیا گیا اگر وہ ختم ہو جائے، یا جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے وضو کا اور جن باتوں سے غسل واجب ہوتا ہے ان سے غسل کا تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔

ناپاک کپڑے پاک کرنے کے متعلق عرض ہے کہ انہیں اچھی طرح دھو کر پوری قوت سے نچوڑا جائے یہاں تک کہ مزید قوت لگانے پر کوئی قطرہ نہ ٹپکے۔ پھر ہاتھ دھو کر کپڑے دھوئیں اور انہیں اسی طرح پوری طاقت سے نچوڑیں، پھر تیسری بار ہاتھ دھو ئیں اور کپڑے دھو کر انہیں پوری طاقت سے نچوڑیں کہ مزید نچوڑنے پر کوئی قطرہ نہ ٹپکے، اب کپڑے پاک ہو گئے۔ اگر کسی نے پوری قوت سے کپڑا نچوڑ لیا مگر کوئی دوسرا جو طاقت میں زیادہ ہے ، اسے نچوڑے تو چندپانی مزید ٹپک جائے گا تو کپڑا پہلے کے حق میں پاک اور اس دوسرے کے حق میں ناپاک ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up