اس مسئلے میں احتیاط کرنی چاہیے، ہر کوئی یا تو اپنا ناپاک کپڑا خود پاک کرے یا پھر انہیں بہتے پانی میں پاک کیا جائے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ خواتین صابن یا واشنگ مشین سے کپڑے دھو کر انہیں کسی برتن میں ڈال دیں اور پھر اتنا پانی ڈالیں کہ کپڑے پانی میں مکمل ڈوب جائیں اور پانی برتن کے کناروں سے بہنے لگے، اب بہتے پانی سے ان کپڑوں کو نکال لیں بہتے پانی کی وجہ سے یہ پاک ہو گئے۔ ایسے نازک کپڑے جو نچوڑنے کے قابل نہیں ہیں اسی طرح چٹائی، قالین اور جوتا وغیرہ بھی اگر ناپاک ہو جائیں تو انہیں پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں دھو کر لٹکا دیا جائے یہاں تک کہ ان سے پانی ٹپکنا بند ہو جائے۔ پھر دوبارہ دھو کر لٹکا دیں ، جب پانی ٹپکنا بند ہو جائے پھر تیسری بار دھو کر سکھا لیں، یہ پاک ہو جائیں گے۔
روزہ کا مقصد اور اہم مسائل
سوال : روزوں کی فرضیت کا مقصد کیا ہے؟ روزہ کن باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن باتوں سے مکروہ ہوتا ہے؟ چیدہ چیدہ مسائل بیان فرمادیجیے۔
جواب: ارشادِ باری تعالی ہوا: ”اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پر ہیز گاری ملے۔“
معلوم ہوا کہ روزوں کی فرضیت کا مقصد تقوی اور پرہیزگاری کا حصول ہے جو کہ انسان کا مقصد حیات بھی ہے۔ انسان اس دنیا میں آکر اس کی رنگینیوں میں کھو گیا اور اپنے مقصد حیات کو بھول کر کھانے پینے اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کو زندگی کا مقصود سمجھ بیٹھا، اس کی تمام کوششیں پیٹ بھرنے اور نفس پروری میں صرف ہونے لگیں۔ اس خواب غفلت سے جگانے کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے ایک ماہ کے روزے فرض کیے تاکہ انسان یہ جان لے کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کھانا پینا ہی نہیں بلکہ اصل مقصود تو تقویٰ ہے۔
جب روزے کی حالت میں بندہ حلال کھانا پینا حکم الٰہی کی تعمیل میں ترک کر دیتا ہے تو روزہ زبانِ حال سے اسے یہ درس دیتا ہے، ”اے روزہ دار! جب تو نے حلال چیزیں اپنے رب کے حکم سے ترک کر دیں تو وہ چیزیں جنہیں تیرے رب نے ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا، تو ان کے ارتکاب سے بھی باز رہنا۔
اس ضمن میں ایک اور بات قابلِ غور ہے وہ یہ کہ نماز بعض ارکان کے ادا کرنے کا نام ہے، زکوٰۃ کسی مستحق کو دینے سے ادا ہوتی ہے، حج طواف کعبہ اور دیگر مخصوص ارکان ادا کرنے کو کہتے ہیں، مگر روزہ ایسی عبادت ہے جو کچھ نہ کرنے کا نام ہے اس لیے سب عبادات دوسروں پر ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ روزہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک راز رہتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی ریا کار چھپ کر کھاتا پیتا رہے اور لوگوں کے سامنے خود کو روزہ دار ظاہر کرے مگر روزہ دار ریا کاری کے لیے کھانا پینا نہیں چھوڑتا۔
اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا:
”روزه میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔“
روزوں کا مقصود تقویٰ ہے اور تقویٰ نیک کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کا نام ہے۔ اس لیے آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا،
” جو روزے دار بری بات کہنا اور برے کام کرنا نہ چھوڑے، اللّٰہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کچھ پرواہ نہیں“۔
مزید ارشاد ہوا: ”کئی روزے دار ایسے ہیں جن کا روزہ سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں اور بہت سے راتوں میں عبادت کرنے والے ایسے ہیں کہ انہیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ۔“
سرور کائنات ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے:
”روزہ محض کھانے پینے سے باز رہنے کا نام نہیں بلکہ روزہ کی اصل یہ ہے کہ لغو اور بیہودہ باتوں سے بچا جائے۔“

