روزہ کی حقیقت کے متعلق چند باتیں عرض کی گئیں اب فقہی مسائل ملاحظہ ہوں۔ کھانے پینے یا جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جبکہ روزے دار ہونا یاد ہو۔
دانتوں میں کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ ہو ، اسے نگل لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
قصداً منہ بھر کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔
آنسو یا پسینہ منہ میں چلا جائے اور اس کی نمکینی پورے منہ میں معلوم ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اگر دانتوں سے خون نکلے اور اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
کُلی کرتے ہوئے پانی بلا ارادہ حلق سے نیچے اتر جائے یا ناک میں پانی چڑھاتے ہوئےدماغ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا بشرطیکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔
آنکھ یا کان میں دوائی ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ کان میں تیل ڈالنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
بھول کر کھانے پینے کے دوران روزہ دار ہونا یاد آجائے اور منہ میں موجود شے نگل لی جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
اگر کھانے پینے کے دوران سحری کا وقت ختم ہو جائے تو نوالہ اگل دینا چاہیے اسے نگل لینے سے روزہ نہیں ہوگا۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی، بیہودہ گفتگو یا کسی کو تکلیف دینے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔
سحری کھانے میں تاخیر کرنا مستحب ہے مگر اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ صبح ہونے کا شک ہوجائے۔ اسی طرح افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے مگر احتیاط ضروری ہے۔ روزے میں بار بار تھوکنا، منہ میں تھوک اکٹھا کر کے نگل لینا اور کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے۔ یوں ہی استنجا کرنے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے یعنی روزے دار کو استنجا کرنے میں نیچے کو زور نہیں دینا چاہیے۔
روزہ دار کو بلا عذر کسی چیز کا چکھنا مکروہ ہے عذر یہ ہے کہ شوہر یا آقا بدمزاج ہو اور نمک وغیرہ کی کمی بیشی پر ناراض ہوتا ہو۔ چکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ زبان پر رکھ کر ذائقہ محسوس کریں اور اسے تھوک دیں، اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔
بھول کر کھانے پینے یا جماع کرنے سے، بے اختیار قے آ جانے سے خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، کان میں پانی چلے جانے سے یا احتلام ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
اسی طرح مکھی، دھواں یا گرد حلق میں چلی جائے تو بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
روزے میں تیل یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگر چہ تیل یا سرمہ کا مزا حلق میں محسوس ہوتا ہو۔ اگر ایسی کسی صورت میں یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا، اس بنا پر قصداً کھایا پیا تو اس روزے کی قضا لازم ہے کفارہ نہیں ۔
روزے کے لیے عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔
اگر حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اپنی یا بچے کی جان کا صحیح اندیشہ ہو تو اسے اجازت ہے کہ اس وقت روزے نہ رکھے خواہ دودھ پلانے والی بچے کی ماں ہو یا دائی ۔ وہ بعد میں روزے رکھ لے۔
عورت حیض سے پورے دس دن رات میں فارغ ہوئی تو بہر حال اگلے دن کا روزہ رکھے اور دس سے کم دنوں میں پاک ہوئی تو اگر صبح ہونے میں اتنا وقت ہے کہ نہا کر معمولی سا وقت بچے گا تو روزہ رکھے اگر چہ غسل نہ کیاہو اور اگر نہا کر فارغ ہونے کے وقت صبح ہوگئی تو روزہ نہیں۔
حیض و نفاس والی عورت پاک ہو گئی تو اسے باقی دن روزے کی مثل گزارنا واجب ہے اور اس دن کی قضا فرض ہے۔ حیض و نفاس والی عورت کو اختیار ہے کہ چھپ کر کھائے یا ظاہراً لیکن چھپ کر کھانا بہتر ہے۔
اگر جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا تو اس کا کفارہ لازم ہے۔ کفارہ یہ ہے کہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے جائیں۔ اگر کسی دن ناغہ ہو جائے تو پھر سے ساٹھ کی گنتی پوری کرنی ہوگی، البتہ عورت کو اگر حیض آ جائے تو اس کی وجہ سے رہ جانے والے دن، ناغے شمار نہیں ہونگے یعنی حیض سے پہلے اور بعد والے دن مل کر ساٹھ کی گنتی پوری ہونے پر کفارہ ادا ہو جائے گا۔

