اگر روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو یعنی کوئی بیمار ہے اور اچھے ہونے کی کوئی امید نہیں یا زیادہ بڑھاپے کے باعث روزے رکھنا ممکن نہیں تو ساٹھ مساکین کو پیٹ بھر کر دونوں وقت کھانا کھلانے سے کفارہ ادا ہوگا۔ یا پھر ہر مسکین کو صدقَۂ فطر کے برابر رقم دے دی جائے۔
زکوٰۃ کی اہمیت اور مسائل
سوال : زکوٰۃ کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیجیے نیز اس ضمن میں ضروری مسائل بھی بیان فرمائیے۔
جواب: ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:
”اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی، اور اسے اللّٰہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔ جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں، (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا، اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔“
قرآن کریم میں بیشمار مرتبہ زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا۔ سورہ مومنون کی چوتھی آیت میں فلاح پانے والوں کا یہ وصف بیان ہوا کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں۔
سورۂ بقرہ کی تیسری آیت میں متقین کی صفت یہ بتائی گئی کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
ایک اور مقام پر فرمایا گیا:
”اور اللّٰہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے، رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے (یعنی غلام آزاد کرانے) میں، اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے۔“
یہ اسلام کا نہایت اہم رکن ہے۔ بکثرت احادیث میں اسے ادا کرنے کی تاکید اور نہ دینے پر وعید وارد ہوئی ہے۔
چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے، ”جسے اللّٰہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال ایک گنجے سانپ کی صورت میں لایا جائے گا اور اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔ وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا، میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر حضور ﷺ نے سورۂ آل عمران کی آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے:
”جو لوگ بخل کرتے ہیں اس کے ساتھ جو اللّٰہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا، وہ یہ گمان نہ کریں کہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ ان کے لیے برا ہے، اس چیز کا قیامت کے دن ان کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا جس کے ساتھ بخل کیا۔“
غیب بتانے والے آقا ﷺ نے فرمایا:
” خشکی اور تری میں جو مال برباد ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے کے باعث برباد ہوتا ہے۔
دوسری روایت میں ارشاد ہوا:
”جو قوم زکوٰۃ نہ دے اللّٰہ تعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرما دیتا ہے۔“
سرکارِ دو عالم نور مجسم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
” تم زکوٰۃ دے کر اپنے مال کو مضبوط قلعوں میں محفوظ کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کرو اور بلا نازل ہونے پر گریہ وزاری سے دعا کے ذریعے مدد چاہو۔“
زکوٰۃ فرض ہے اس کا منکر کافر ہے ، اور اس کا نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق ہے، اور اسے ادا کرنے میں تاخیر کرنے والا گناہگار اور مردود الشھادۃ ہے۔
زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:
1:۔مسلمان ہونا ۔
2:۔ بالغ ہونا ۔
3:۔ عاقل ہونا ۔
4:۔ آزاد ہونا ۔
5:۔ مالک نصاب ہونا۔
6:۔ پورے طور پر مالک ہونا۔
7:۔ نصاب کا قرض سے فارغ ہونا۔
8:۔ نصاب کا حاجت اصلیہ سے فارغ ہونا۔
9:۔ مال کا نامی ہونا۔
10:۔ سال گزرنا۔
جو دَین (قرض) میعادی ہو وہ زکوٰۃ سے نہیں روکتا۔ چونکہ عادۃمہر کی رقم کا مطالبہ نہیں ہوتا اس لئے شوہر کے ذمہ کتنا ہی مہر کیوں نہ ہو ، اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر کسی پر قرض ہو اور وہ قرض ادا کرنے کے بعد مالک نصاب نہیں رہتا تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔

