جو مال حاجت اصلیہ کے علاوہ ہو اور نصاب کے برابر ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ زندگی بسر کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہو وہ حاجت اصلیہ ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں ۔ جیسے رہنے کا مکان، سردی گرمی میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور ( گاڑی)، خدمت کے لیے لونڈی غلام، جنگ کے آلات، پیشہ وروں کے اوزار، اہلِ علم کے لیے ضرورت کی کتابیں ، کھانے کے لیے اناج وغلّہ ۔
زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باؤن تولے چاندی ہے۔ اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باؤن تولے چاندی یا ان میں سے کسی کی قیمت کے برابر رقم ہو جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ زکوٰۃ کل مال کا ڈھائی فیصد (%2.5) ادا کرنا واجب ہے۔
کسی کے پاس کچھ سونا اور کچھ چاندی ہے اور دونوں کی مقدار نصاب سے کم ہے تو دونوں کی مالیت کا حساب کریں، اگر کل رقم ملا کر کم مالیت والے نصاب یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو زکوٰۃ واجب ہے۔ اسی طرح اگر نصاب سے کم سونا اور کچھ روپے ہیں تو سونے کی مالیت نکالیں، اگر مالیت اور نقد رقم ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو بھی زکوٰۃ واجب ہے۔
مالِ تجارت پر بھی زکوٰۃ ہے جبکہ اس کی قیمت کم از کم نصاب کے برابر ہو۔ اگر سامان تجارت کی قیمت نصاب کو نہیں پہنچتی مگر اس کے پاس مالِ تجارت کے علاوہ سونا اور چاندی بھی ہے تو ان تینوں کی مالیت جمع کریں اگر مجموعہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر کسی کے چار بیٹے ہیں اور اس نے انہیں دینے کی ضروت سے چار مکان خریدے تو ان پر زکوۃ نہیں۔ اگر کوئی مکان یا پلاٹ بیچنے کی نیت سے لیا تو اس پر زکوٰۃ ہے۔
نابالغ لڑکیوں کا جو زیور بنایا گیا اور انہیں ابھی مالک نہ کیا گیا بلکہ اپنی ہی ملکیت میں رکھا اور ان کے پہننے کے استعمال میں آتا ہے اگر چہ نیت یہ ہو کہ ان کا بیاہ ہونے پر جہیز میں دیں گے۔ اگر تنہا وہ زیور یا وہ دوسرے مال کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر ہے تو اسی مالک پر زکوٰۃ ہے۔ اگر وہ زیور نابالغ لڑکیوں کی ملکیت بنا دیا گیا تو اس کی زکوۃ کسی پر نہیں؛ والدین پر اس لئے نہیں کہ وہ ان کی ملکیت نہیں اور لڑکیوں پر اس لئے نہیں کہ وہ نابالغہ ہیں۔
وہ زیور جو عورت کی ملکیت ہے یا اس کے شوہر نے اس کی ملکیت کر دیا، اس کی زکوٰۃ ہرگز شوہر کے ذمہ نہیں اگر چہ وہ مالدار ہو اور نہ اس کی زکوۃ نہ دینے کا شوہر پر کوئی گناہ۔ ہاں شوہر کو چاہیے کہ بیوی کو سمجھائے کہ زکوٰۃ نہ دینا بہت بڑا گناہ ہے اور زکوٰۃ دینے کی تاکید کرے۔ اور وہ زیور جو شوہر نے صرف پہننے کو دیا اور اپنی ہی ملکیت رکھا جیسا کہ بعض گھرانوں میں رواج ہے تو اس کی زکوٰۃ بیشک مرد کے ذمہ ہے جبکہ وہ زیور خود یا دوسرے مال سے مل کر نصاب کو پہنچے اور حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو۔
چاند کی تاریخ کے حساب سے جس تاریخ اور جس وقت کوئی صاحب نصاب ہوا، جب سال گزر کر وہی تاریخ اور وقت آئے گا اس پر فوراً زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہو گا۔ اب وہ جتنی دیر کرے گناہگار ہوگا۔ اس لیے زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے پیشگی ادا کرنی چاہیے اور اس کے لیے بہترین مہینہ رمضان المبارک ہے جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر فرضوں کے برابر ملتا ہے۔
سال پورا ہونے پر اس رقم کا حساب کر لیا جائے ، جو رقم کم ہو فوراً دےدی جائے اور اگر زیادہ دے دی ہو تو اسے آئندہ سال کے حساب میں شمار کرلیا جائے۔
مرد یا عورت جن کی اولاد میں خود ہے یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانانانی وغیرہ اور جو ان کی اولاد میں ہے یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی وغیرہ اور شوہر یا بیوی؛ ان کو زکوۃ اور صدقہ فطر دینا جائز نہیں البتہ انہیں نفلی صدقہ دینا بہتر ہے۔ ان رشتوں کے علاوہ جو قریبی عزیز حاجت مند ہیں جیسے بہن بھائی، بھتیجا بھیجی، بھانجا بھانجی، ماموں ،خالہ، چچا پھوپھی، یہ زکوۃ کا بہترین مصرف ہیں کہ اس میں صلہ رحمی کا ثواب بھی ہوگا۔ نیز نفس پر بار بھی نہیں ہوگا کیونکہ آدمی اپنے سگے بہن بھائی یا ان کی اولاد کو دینا گویا اپنے ہی کام میں استعمال کرنا سمجھتا ہے۔

