بہو داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ غنی کی نابالغ اولاد کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں جبکہ غنی کی بالغ اولاد کو دے سکتے ہیں جبکہ وہ فقیر ہوں۔ فقیر سے مراد وہ ہے جس کے پاس مال ہو مگر نصاب سے کم ہو یا وہ اتنا مقروض ہو کہ قرض نکالنے کے بعد صاحب نصاب نہ رہے۔ فقیر کو مانگنا نا جائز ہے جبکہ مسکین کو جائز ہے۔ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور وہ کھانے اور پہننے کے لیے مانگنے کا محتاج ہو۔
زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نیت ضروری ہے۔ اگر سال بھر خیرات کیا بعد میں نیت کی کہ جو دیا زکوۃ ہے، اس طرح زکوۃ ادا نہ ہوئی۔ زکوۃ دینے میں یہ بتانا ضروی نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے اس لیے اسے دل میں زکوٰۃ کی نیت کر کے مستحق عزیزوں کو مالی مدد یا عیدی وغیرہ کے طور پر بھی دے سکتے ہیں۔
وہ طالبِ علم جو علم دین پڑھتے ہیں انہیں بھی زکوٰۃ دے سکتے ہیں بلکہ طالب علم سوال کر کے بھی زکوٰۃ لے سکتا ہے جبکہ اس نے خود کو اس کام کے لیے فارغ کر رکھا ہو اگر چہ کماسکتا ہو۔
جو لوگ زکوٰۃ دینی مدارس میں دیتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہاں کی انتظامیہ کو بتادیں کہ یہ زکوٰۃ ہے تا کہ وہ اسے شرعی مصارف میں خرچ کریں۔
سید کو زکوٰۃ لینا بھی حرام اور اسے زکوٰۃ دینا بھی حرام۔ سید کو دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی کیونکہ زکوٰۃ مال کا میل ہے اور سادات کرام پاک ستھرے لطیف اور اہلِ بیت نبوت سے ہیں۔ ان کی شان اس سے اعلیٰ کہ انہیں ایسی چیزیں دی جائیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ حاجت مند سادات کی اعانت کریں کہ یہ چیز ان کے لیے دونوں جہان میں سعادت کی موجب ہے۔
زکوٰۃ دینے میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر ان کی اولاد کو، پھر چاچا اور پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو، پھر ماموں اور خالہ کو پھر ان کی اولاد کو پھر اپنے گاؤں یا شہر کے مستحقین کو ۔
حدیث میں ہے کہ ”اللّٰہ تعالیٰ اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے حسن سلوک کےمحتاج ہوں اور وہ غیروں کو دے۔“
بد مذہب کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اور اسی طرح ان مرتدین کو بھی دینے سے ادا نہ ہو گی جو زبان سے تو اسلام کا دعوی کرتے ہیں لیکن خدا و رسول کی شان گھٹاتے یا کسی اور دینی ضرورت کا انکار کرتے ہیں۔
باب سوم پردہ
سورۂ نور میں پردے کے احکام
سوال : سورۂ نور میں عورتوں کے لیے پردے کے جو احکام آئے ہیں انہیں تفصیل سے بیان فرمائیے۔
جواب: اللّٰہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے:
”مسلمان مردوں کو حکم دو ، اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللّٰہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو ، اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ نہ دکھا ئیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر، یا اپنے باپ یا اپنے شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا اپنے شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں، یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں، یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار (یعنی زیور)۔ اور اللّٰہ کی طرف تو بہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔“

