Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 22 of 90

ان آیات میں پردے کے متعلق مندرجہ ذیل احکام بیان ہوئے ہیں:

اول:مسلمان مرد و عورت اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

دوم:اپنی شرمگاہ اور عصمت و پارسائی کی حفاظت کریں ۔

سوم:عورتیں اپنا بناؤ سنگھار نامحرموں سے چھپائیں۔

چہارم:اپنے دوپٹے یا چادر یں اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں ۔

پنجم:اپنا مخفی بناؤ سنگھار بھی ظاہر نہ ہونے دیں۔

اول:انسانی نفسیات سے واقف کوئی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ بے راہ روی کی ابتدا نامحرموں کو دیکھنے سے ہوتی ہے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے یہ ان تمام اساور ذرائع پر پابندی عائد کرتا ہے جو گناہ کا موجب ہوں۔

امام غزالی فرماتے ہیں:

”اس معاملے میں نفس کی مثال ایک جانور کی سی ہے کہ جب ابتدا میں کسی سمت میں جانے کا رجحان ظاہر کرے تو اس کی لگام تھامنا اور اسے اس سمت میں جانے سے روکنا مشکل نہیں ہوتا لیکن اگر لگام کھلی چھوڑ دیں اور وہ کسی سمت گامزن ہو جائے تو پھر لاکھ اس کی دم کھینچیں اور اسے باز رکھنے کی کوشش کریں مگر کامیابی دشوار ہو جاتی ہے پس اصل بات یہ ہے کہ آنکھ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہر فتنے کی ابتدا آنکھ ہی سے ہوتی ہے۔

حضرت جریر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ نے نبی کریم سے کسی نامحرم پر اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو آقا ومولیٰ   نے فوراً نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔

دوسری حدیث میں ارشاد ہوا،

”پہلی اچانک نظر معاف ہے مگر دوسری نظر جائز نہیں۔“

ایک اور حدیث شریف میں راستے کا ایک حق یہ بیان فرمایا گیا

”کہ نگاہیں نیچی رکھی جائیں۔“

حدیث قدسی ہے،

”نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے جس نے اس کو میرے خوف سے ترک کر دیا میں اسے ایمان کا وہ درجہ دوں گا جس کی مٹھاس اور لذت وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔“

یعنی جو کوئی خوف خدا کے باعث نامحرموں کی طرف نہ دیکھے، اللّٰہ تعالیٰ اسے ایمان کی حلاوت عطا فرماتا ہے۔

علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ

”دل کی طرف کھلنے والا سب سے بڑا دروازہ نگاہ کا ہے۔ آنکھ کی بے راہ روی کی وجہ سے ہی اکثر گناہ صادر ہو جاتے ہیں اس لیے اس سے بچنا چاہیے اور تمام محرمات سے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

“صدر الافاضل اس آیت کے تحت رقم طراز ہیں: ” حدیث شریف میں ہے کہ ”کہ ازواج مطہرات میں سے بعض امہات المؤمنین سید عالم کی خدمت میں تھیں اسی وقت ابن ام مکتوم رضی اللّٰہ عنہ آئے تو حضور نے ازواج کو پردے کا حکم فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو نا بینا ہیں۔ فرمایا، تم تو نا بینا نہیں ہو۔“

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا بھی نامحرم مردوں کو دیکھنا اور ان کے سامنے ہونا جائز نہیں۔“

دوم:اس کا مفہوم یہ ہے کہ بدکاری سے بھی بچو اور اس کے تمام اسباب سے بھی۔ آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے:

”نامحرم کو شہوت سے دیکھنا آنکھ کا زنا ہے، شہوانی باتیں سننا کان کا زنا ہے، ایسی باتیں کرنا زبان کا زنا ہے، نامحرم کو چھونا اور پکڑنا ہاتھ کا زنا ہے، اس کی طرف چلنا پاؤں کا زنا ہے، ایسی بری خواہش دل کا زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا یا جھوٹا کر دیتی ہے۔“

 نورِ مجسم کا فرمانِ ذیشان ہے:

اگر تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ تو میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں۔ جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امانت دی جائے تو ادا کرو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ ظلم سے روک دو۔

Share:
keyboard_arrow_up