Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 23 of 90

مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی قدس سرہ فرماتے ہیں:

”مرد اور عورتیں اپنی اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اس حکم کے تحت زناکاری کے علاوہ اور بھی سارے طریقے ناجائز شہوت رانی اور بدکاری و بدنظری کے آگئے۔ عاشقانہ افسانے اور ڈرامے، بے حیائی کے مناظر دکھانے والے تھیٹر اور سینما، خیالات و جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی تصویریں وغیرہ سب اس کے تحت میں آ جاتی ہیں۔“

سوم: پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ نامحرم کون ہیں؟

دینِ اسلام میں عورت کا جن مردوں سے نکاح حرام ہے وہ محرم کہلاتے ہیں۔ ان کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو ابدی محرم ہیں یعنی ان سے کسی بھی صورت میں عورت کا نکاح حرام ہے جیسے باپ بیٹا بھائی سسر داماد چچا ماموں بھانجا بھتیجا وغیرہ۔

دوسرے وہ جو ابدی محرم نہ ہوں جیسے پھوپھا خالو بہنوئی جیٹھ دیور وغیرہ کہ ان سے حرمت کا رشتہ دائمی نہیں۔ کیونکہ جب تک عورت کی پھوپھی خالہ یا بہن ان کے نکاح میں ہے ان سے نکاح حرام ہے مگر پھوپھی خالہ یا بہن کے انتقال یا طلاق ہو جانے کی صورت میں ان سے عورت کا نکاح حلال ہو جائے گا۔ چچا، تایا ، ماموں، خالہ یا پھوپھی کے بیٹے جنہیں عرف میں بھائی کہا جاتا ہے اسی طرح منہ بولے بھائی یا انکل وغیرہ ان سب کو عموماً محرم سمجھ کر ان سے پردہ نہیں کیا جاتا جبکہ یہ سب غیر محرم ہیں، خواتین کے لیے ان عارضی محرموں اور نامحرموں سے پردہ کرنا اور اپنا بناؤ سنگھار چھپانا ضروری ہے۔

اب مذکورہ حکم قرآنی پر غور کیجیے کہ عورتیں اپنی زینت نہ دکھا ئیں مگر جتنی خود ہی ظاہر ہے۔ زینت میں ہر وہ چیز آ جاتی ہے جو مردوں کے لیے عورت کی طرف رغبت کا باعث ہو، خواہ وہ زینت پیدائشی ہو جیسے حسین آواز، جسمانی خوبصورتی، خوش خرامی وغیرہ، خواہ وہ زینت کسبی ہو جیسے خوبصورت لباس، زیورات، پاؤڈر، غازہ ، سرخی وغیرہ۔ ایسا بناؤ سنگھار جو شریعت کی حدود میں ہوجائز ہے بشرطیکہ نامحرموں کے سامنے نمائش مقصود نہ ہو۔

مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی رحمۃ اللّٰہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ”جسم کے وہ حصے اس حکم سے مستثنٰی ہیں جو اگر چہ زینت کے مواقع ہیں لیکن ان کے چھپائے رکھنے میں عموماً حرج اور زحمت ہے جیسے چہرے کی ٹکیا، ہتھیلیاں اور پاؤں، کیونکہ سرمہ لگانا چہرے کی اور خضاب یعنی مہندی لگانا اور انگوٹھیاں پہننا ہتھیلیوں اور انگلیوں کی زینت ہیں اور بہت سی دنیاوی اور دینی ضرورتیں ان کے کھلا رکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقاً ہر حال میں حکم دیا جائے تو عورتیں بڑی دشواریوں میں پھنس جائیں اس لیے انہیں یہ رعایت دی گئی کہ اپنے محرم رشتہ داروں مثلاً باپ بیٹا بھائی چچا ماموں دادا نانا سسر اور داماد وغیرہ کے سامنے اپنے جسم کا وہ حصہ کھلا رکھ سکتی ہیں جسے کھلا رکھے بغیر وہ خانگی امور انجام نہیں دے سکتیں۔ جیسے آٹا گوندھتے وقت آستینیں چڑھا لینا یا گھر کا فرش دھوتے وقت شلوار کے پائنچے ذرا اوپر چڑھا لینا کہ جسم کے یہ حصے اگر چہ زینت کے مواقع ہیں لیکن ان کا ہر ایک سے ہر حالت میں چھپائے رکھنا حرج عظیم اور باعث زحمت ہے۔ اسی لیے حنفی فقہاء و مفسرین کے یہاں چہرہ اور کف دست (ہتھیلیوں) اور پیروں کے دیکھنے کی اجازت ملتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ ان اعضاء کی طرف نظر کرنا یا ان کا کھولے رکھنا صرف اور صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو ورنہ چہرہ تو چہرہ کف دست کا دیکھنا اور اس پر نظر جمانا بھی جائز نہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up