مزید فرماتے ہیں:” کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے حسن و جمال اور آرائش و زیبائش اور بناؤ سنگھار کی نمائش کی خاطر بھاڑ کی طرح منہ کھو لے پھرے اور آوارہ گردوں کی نگاہوں کو دعوت نظارا دے، لغزشوں کا سامان فراہم کرے اور اسلامی معاشرے کو داغدار بنائے۔
خلاصَۂ کلام یہ ہے کہ چہرہ ہتھیلیاں اور پاؤں، یہ تینوں اعضاء ستر میں داخل نہیں، ان کا چھپانا فرض نہیں مگر اجنبیوں کے لیے کھلا رکھنا ضرور حرام ہے۔“
چہارم: آقا ومولیٰ ﷺکا ارشاد ہے:
”عورت ، عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے، جب وہ نکلتی ہے تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے۔“
یعنی نامحرم عورت کو دیکھنا شیطانی کام ہے، یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ شیطان بدکار و آوارہ مردوں کو عورت کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ بد نظری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چونکہ عورتوں میں آرائش و خود نمائی کا شوق جلدی پروان چڑھتا ہے اور یہ شوق اگر مخصوص اسلامی حدود کا پابند نہ رہے تو معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی پھیلنے لگتی ہے اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو نگاہ کی حفاظت، عصمت و پارسائی کی حفاظت اور بناؤ سنگھار چھپانے کے احکام دینے کے بعد مزید تاکید فرمائی کہ وہ اپنی چادریں یا دوپٹے اپنے سینوں پر اوڑھے رکھیں تا کہ آوارہ لوگوں کی ہوس ناک نظروں سے محفوظ رہیں اور معاشرے کی پاکیزگی بھی قائم رہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ سر، گردن اور سینہ چھپانا فرض ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ وہ دبیز کپڑے کے دوپٹے یا چادریں سروں پر اس طرح اوڑھیں کہ ان کا ایک حصہ پشت پر رہے اور دوسرا سینے پر۔ اس طرح سر کے بالوں کی رنگت بھی نظر نہیں آئے گی اور کمر، گردن ، کان، گلا اور سینہ بھی عریاں نہ رہیں گے۔
بقول مفتی صاحب گویا مسلمان عورت ، عفت و عصمت اور پارسائی کی ایک چلتی پھرتی تصویر اور شرم و حیا کی ایک جیتی جاگتی تنویر ہو، شرم کا مجسمہ، حیا کی پتلی ۔ آپ مزید لکھتے ہیں، بعض روایات میں آیا ہے کہ (ان آیات کے نازل ہونے پر) ان عورتوں نے باریک کپڑے چھوڑ کر اپنے موٹے موٹے اوڑھے جانے کے قابل کپڑوں سے اپنے لیے دوپٹے بنا کر سروں پر اوڑھے۔ دوپٹے یا اوڑھنی کے اس طرح اوڑھنے میں جو حکمت ہے وہ ہےاسلامی معاشرے میں بیش از بیش پاکیزگی اور عفت شعاری کا رواج ۔
یہ اگر ذہن نشین رہے تو یہ بات بآسانی آدمی سمجھ سکتا ہے کہ ایسے باریک گھاس پھوس دوپٹوں کا استعمال جن سے بالوں کی رنگت اور سینہ وغیرہ کی ساخت جھلکے، جو مقصدِ شرع کو پورا نہیں کرتے، تو ان کا پہننا نہ پہننا برابر ہے۔ پھر بھی رسول اللّٰہ ﷺ کی شریعت مطہرہ نے اسے ہماری کج مج عقل و فہم پر نہ چھوڑا بلکہ صاف تصریح فرما دی۔
ابوداؤد شریف میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کے پاس مصر کی باریک ململ آئی۔ آپ نے ایک ٹکڑا اس میں سے مجھے دیا اور فرمایا: ایک حصہ کا اپنے لیے کرتا بنا لو اور ایک حصہ اپنی بیوی کو دے دو کہ وہ دو پٹہ بنائے ۔ مگر اسے یہ جتا دینا کہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لے تاکہ جسم کی ساخت اس سے نہ جھلکے۔
آقا ومولیٰ ﷺ نے حضرت اسماء رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
”عورت جب بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ سوائے چہرے اور ہتھیلیوں کے نظر نہ آئے۔“
اسی طرح عورتوں کو چست کپڑے پہننا، جن سے جسم کا نقشہ کھنچ جائے اور اعضاء کی ہیئت نمایاں ہو، بالکل ناجائز اور ایسی حالت میں مردوں کو ان کی طرف دیکھنا حرام ہے۔

