Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 25 of 90

پنجم: زمانہ جاہلیت میں عورتیں پازیب وغیرہ پہن کر جب مردوں کے قریب سے گزرتیں تو دانستہ اپنے پاؤں زمین پر مارتیں تا کہ مرد اس آواز کوسن کر ان کی طرف متوجہ ہوں۔ اسلام نے ایسی تمام ذلیل و اشتعال انگیز حرکات پر پابندی لگادی جو معاشرے میں بے حیائی پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ نیز مسلمان خواتین کو یہ تعلیم دی کہ اگر کبھی شرعی عذر کی بنا پر گھر سے باہر نکلنا پڑے تو شریعت مطہرہ کے مطابق ستر پوشی کر کے وقار و سنجیدگی کے ساتھ نکلنا اور ہر اس چیز سے بچنا جو نامحرموں کو تمہاری طرف متوجہ و مائل کرنے کا باعث ہو۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد گرامی ہے،

”وہ عورت جو بن سنور کر نامحرموں میں اِترا اِترا کر چلتی ہے وہ قیامت کے دن مجسم تاریکی کی مثل ہوگی جہاں روشنی کی کوئی کرن تک نہ ہو۔“

مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی فرماتے ہیں: حدیث شریف میں ہے کہ

اللّٰہ تعالیٰ اس قوم کی دعا قبول نہیں کرتا جس کی عورتیں جھانجن (آواز والا زیور ) پہنتی ہوں ۔ اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ جب زیور کی آواز دعا قبول نہ ہونے کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی تباہی کا باعث ہوگی؟“

آپ اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:

”آیتِ کریمہ کا طرز خطاب صاف بتا رہا ہے کہ یہ ممانعت صرف پاؤں میں پہننے والے زیورات کی آواز تک محدود نہیں بلکہ اس سے مقصود ہر ایسی حرکت، ہر ایسے اقدام اور ہر ایسے فعل سے روک دینا ہے جو اجنبی مردوں کی رغبت اور دلکشی کا باعث ہو اور جو عورتوں کو نامحرموں کی توجہ و التفات کا مرکز بنا دے۔ اسی لیے شوخ رنگ، بھڑک دار لباس استعمال کر کے یا تیز خوشبو لگا کر عورتوں کا مجمع عام میں جانا، یا ایسے چست ملبوسات زیب تن کر کے اجنبیوں میں گزرنا جن سے بدن کی ساخت نمایاں ہو، شریعتِ مطہرہ کو ایک آنکھ ، ایک آن کے لیے پسند و گوارا نہیں۔

چنانچہ نبی کریم  نے عورتوں کو حکم دیا کہ

”وہ خوشبو لگا کر گھروں سے باہر نہ نکلیں حتی کہ مسجدوں میں بھی تیز خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کیلئے نہ جائیں“۔

ابوداؤد و ابن ماجہ میں مروی ہے کہ

”ایک عورت مسجد سے نکل کرجا رہی تھی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کا اس کے پاس سے گذر ہوا تو آپ نے اسے روک کر دریافت فرمایا، اے خداوند جبار کی بندی! کیا تو مسجد سے آ رہی ہے ؟ عرض کیا: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا: میں نے اپنے محبوبِ اکرم ابوالقاسم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ”اللّٰہ تعالیٰ اس عورت کی نماز قبول نہیں فرماتا جو مسجد میں تیز خوشبو لگا کر جائے ، جب تک وہ گھر آ کر غسل جنابت نہ کر لے۔“

امام ترمذی نے روایت کی کہ حضور نے فرمایا:

”جو عورت عطر لگا کر (یعنی کسی تیز خوشبو میں خود کو بسا کر ) مردوں کے مجمع سے گزرے تاکہ لوگ اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہوں اور ظاہر ہے کہ تیز خوشبوؤں میں بس کر مردوں میں سے گزرنا اسی مقصد سے ہوتا ہے ) تو وہ عورت ایسی اور ایسی (یعنی زانیہ) ہے۔

مذکورہ آیت کریمہ سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ جب زیور کی آواز کا غیروں کے کانوں تک پہنچانا شریعتِ مطہرہ کو ہرگز پسند نہیں، بلکہ وہ اس کے چھپانے کا اس قدر اہتمام کرتی ہے تو خود اس کی آواز کا غیروں کے کانوں سے ٹکرانا کس قدر ناپسندیدہ ہوگا، پھر جب اس کی آواز چھپانے کے قابل ہے تو صورت کیونکر چھپانے کے قابل نہ ہوگی کہ اصل فتنہ کا باعث تو شکل وصورت ہی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up