اللّٰہ اللّٰہ ! عفت و پارسائی اور پاکدامنی کا کس قدر اہتمام ہماری شریعتِ مطہرہ میں ہے اور فتنہ وشر کے کیسے کیسے دروازوں، درازوں اور سوراخوں کو ہماری شریعت کاملہ نے بند کر دیا ہے۔
ایک طرف تو یہ احتیاطیں اور پابندیاں ہیں اور دوسری طرف گانے اور طرح طرح کے سریلے باجوں کے ساتھ گانے ہی کی نہیں بلکہ مرد و عورت کے مشترکہ ناچ کی آزادیاں ہیں! دونوں زندگیوں کے نتائج بالکل ظاہر ہیں ۔
چہرے کے پردے کی شرعی حیثیت
سوال : بعض خواتین کہتی ہیں کہ چہرے کا پردہ کرنے کا قرآن و حدیث میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ آپ فرمائیے کہ موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پردے کے احکام پر کس حد تک عمل کیا جانا چاہیے ؟
جواب : پہلی بات تو یہ ذہن نشین رکھیے کہ ہمیں دین اسلام کے مطابق عمل کرنا چاہیے نہ یہ کہ ہم دین اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی آرزو کریں۔
باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
”جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی میں بہکا ۔
“دوسری جگہ یہ حکم فرمایا گیا:
اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فرما ئیں وہ لو اور جس سے منع فرما ئیں باز رہو۔“
قبل ازیں سورۂ نور میں ستر عورت سے متعلق احکام بیان کیے گئے اب ہم خاص حجاب سے متعلق گفتگو کرتے ہیں تا کہ ان خواتین کی غلط فہمی دور ہو جائے جو کہتی ہیں کہ چہرے کے پردے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔رب کریم حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔
ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
”اے ( غیب بتانے والے) نبی ! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں ، یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں۔“
یہاں ضمناً یہ بات عرض کرتا چلوں کہ بعض جہلاء اور اہل بیت اطہار کے دشمن صرف سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے بنتِ رسول ہونے کے مدعی ہیں اور نبی کریم ﷺ کی دیگر تین صاحبزادیوں کا انکار کرتے ہیں۔ مذکورہ آیت کریمہ پر غور کیجیے اس میں لفظ”بَنَاتِكَ“ آیا ہے۔ قرآن کریم نے بنت (ایک بیٹی) نہیں کہا بلکہ جمع کا لفظ بنات استعمال فرمایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ کی ایک سے زیادہ صاحبزادیاں تھیں۔ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں، حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہم۔
شیعہ فرقہ کی معتبرترین کتاب ”اصول کافی“سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ اس میں تحریر ہے کہ”حضرت خدیجہ (رضی اللّٰہ عنہا) کے بطن سے حضور کی یہ اولاد پیدا ہوئی:بعثت سے پہلے قاسم، رقیہ،ام کلثوم، اور بعثت کے بعد طیب، طاہر اور فاطمہ علیہا السلام ۔“
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔
مذکورہ آیت کی تفسیر میں سید المفسرین سیدنا عبداللّٰہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”اپنی چادر یں اپنے چہروں پر لٹکائیں یعنی چہرہ چھپا لیں اور چادروں کو اس طرح اوڑھیں کہ سینہ، شکم ، پشت اور گلا ڈھکا رہے، یہ اس لئے بہتر ہے کہ وہ پہچانی جائیں کہ بدکار نہیں ہیں۔ حضرت قتاده، ابن جریر طبری، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ رحمہم اللّٰہ نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔
علامہ ابوبکر جصاص رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
”یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جوان عورتوں کو نامحرموں سے چہرہ چھپانے کا حکم ہے۔“

