Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 27 of 90

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:

”یہ حکم اس لیے دیا گیا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ بدکار عورتیں نہیں ہیں کیونکہ جو عورت چہرہ چھپا رہی ہے حالانکہ یہ ستر میں داخل نہیں تو اس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا ستر غیر کے سامنے ظاہر کرنے پر راضی ہو گی۔

ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ مسلمان عورتیں جب کسی شرعی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلیں تو ان کا سارا جسم کسی بڑی چادر یا برقعہ سے ڈھکا ہوا ہونا چاہیے، چہرہ بھی حجاب میں چھپا ہوا ہو، صرف آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔

جیسا کہ حضرت ابن سیرین رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت عبیدۃ السلمانی رضی اللّٰہ عنہ سے (جو فقیہ تابعی تھے ) روایت کیا ہے۔علامہ ابن حیان فرماتے ہیں کہ

”اندلس میں مسلمان عورتیں اس طرح پردہ کرتی ہیں کہ ان کا سارا چہرہ چھپا ہوتا ہے صرف ایک آنکھ کھلی ہوتی ۔“ موجودہ دور کے حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کو شدید مجبوری کے سوا گھر سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے، اسی میں عورت کی بھلائی اور عصمت و آبرو کی سلامتی ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے۔

”اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔“

اگلی جاہلیت سے مراد اسلام سے قبل کا زمانہ ہے ، اس زمانہ میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں اور اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد دیکھیں۔ لباس ایسے پہنتی تھیں جس سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں اور پچھلی جاہلیت سے آخری زمانہ مراد ہے جس میں لوگوں کے افعال پہلوں کی مثل ہو جائیں گے۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی بارگاہ میں بنو تمیم قبیلے کی چند عورتیں آئیں جنہوں نے باریک لباس پہنا ہوا تھا آپ نے ان سے فرمایا،

”اگر تم ایمان والی عورتیں ہو تو جان لو کہ یہ لباس مومن عورتوں کا نہیں ہے اور اگر تم مومن نہیں ہو تو پھر جو چاہو کرو ۔

حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کا یہ ارشاد گرامی بھی پیش نظر رکھیے کہ جب ان سے پوچھا گیا : عورتوں کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہ وہ غیر مردوں کو دیکھیں اور نہ ہی غیر مرد انہیں دیکھیں۔“

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ امام فقیہ ابواللیث اور فتح القدیر وغیرہ کتب فقہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

”شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کو سات مواقع پر گھر سے نکلنے کی اجازت دے۔

والدین یا ان میں سے کسی سے ملاقات( ہفتہ میں ایک بار دن بھر کے لیے)

ان کی عیادت،

ان کی تعزیت ہے۔ دیگر محرم رشتہ داروں سے ملاقات (سال میں ایک بار، دن ہی کے وقت میں)،

اگر دایہ ہو یا

6 ۔ مردہ نہلانے والی ہو یا

اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا اس پر حق ہو۔ ان آخری تین صورتوں میں بااجازت اور ضرورتاً بلا اجازت بھی نکل سکتی ہے، حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان مواقع کے علاوہ اجنبیوں (اور غیر محرم رشتہ داروں) کی ملاقات، ان کی عیادت اور ان کے یہاں غمی یا شادی میں شرکت کے لیے شوہر اجازت نہ دے اگر اجازت دی تو دونوں گناہگار ہوں گے۔

اب قرآن و سنت سے پیش کردہ دلائل کی روشنی میں پردے سے متعلق احکام کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔

خواتین جب کسی شرعی ضرورت سے باہر نکلیں تو پہلے اپنا جسم کسی بڑی چادر یا برقعہ سے اچھی طرح ڈھانپ لیں اور چہرہ بھی چھپا لیں، صرف آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ بھی خیال رکھیں کہ ان کا بناؤ سنگھار کسی پر ظاہر نہ ہونے پائے۔ اس میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو غیر مردوں کے لیے عورت کی طرف رغبت کا باعث ہو جیسے خوشبو، زیور، ناز و ادا سے چلنا اور پردے کے لیے اوڑھی گئی چادر کا منقش و جاذب نظر ہونا وغیرہ کہ یہ سب باتیں مردوں کو متوجہ کرنے کا باعث ہوتی ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up