عورت کہیں تنہا نہ جائے اس کے ساتھ محرم ہونا چاہیے۔ شریعت مطہرہ نے حج جیسی عظیم عبادت کی ادائیگی کیلئے بھی عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ اس پُرفتن دور میں احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ عورت گھر سے باہر کہیں بھی جائے محرم ساتھ ہو۔
حدیث شریف میں آیا ہے:
”جب کوئی مرد غیر عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے وہاں تیسرا شیطان ضرور ہوتا ہے۔“
یعنی مرد و عورت کی تنہائی میں ملاقات کے وقت شیطان ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔
مجددِ دین وملت امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہ اپنے ایک فتوے میں فرماتے ہیں،
”فتنہ وہی نہیں کہ عورت کے دل سے پیدا ہو، وہ بھی ہے اور سخت تر ہے جس کا فاسقوں سے عورت پر اندیشہ ہو ، یہاں عورت کی صلاح کیا کام دے گی؟
دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”سلمٰی پارسا ہے ہاں! پارسا ہے وَبَارَكَ الله (اللّٰہ اس کی پارسائی میں برکت دے) مگر جان برادر! کیا پارسا ئیں معصوم ہوتی ہیں؟ کیا صحبت بَد میں اثر نہیں؟ عورت کا عورت کے ساتھ ہونا زیادت عورت ہے نہ کہ حفاظت کی صورت،سونے پر جتنا سونا بڑھاتے جائیے محافظ کی ضرورت ہوگی نہ یہ کہ ایک تو ڑا دوسرے کی نگہداشت کرے۔“
عورت کسی نا محرم کے ہاتھ نہ چھوئے اس لیے عورت کسی ایسی جگہ ہرگز نہ جائے جہاں مردوعورت کا آزادانہ اختلاط ہو اورہجوم کے باعث نامحرموں سے جسم ٹکرانے کا احتمال ہو۔
حضرت ابواسید انصاری رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے عورتوں سے فرمایا:
”تم راستے کے درمیان میں نہ چلو بلکہ کناروں پر چلا کرو۔“ اس ارشاد مبارک کے بعد عورتیں دیواروں کے ساتھ چلتیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے دیواروں کے ساتھ لگ رہے ہوتے تھے۔
عورت کی آواز اور لہجہ کی قدرتی نرمی اور نزاکت مرد کی نفسانی خواہشات ابھارنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے عورتوں کو چاہیے کہ جب کسی نا محرم سے کسی حقیقی ضرورت کے تحت گفتگو کرنی پڑے تو پوری احتیاط سے سادہ لہجےمیں بقدرِ ضرورت بات کریں۔
جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اگر اللّٰہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے، ہاں اچھی بات کہو۔“
کیا بے پردگی ہماری ضرورت ہے؟
سوال: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں بے پردگی ہماری ضرورت بن چکی ہے، مخلوط محافل میں لڑکیوں کو آرائش و زینت کے ساتھ لے کر جائیں گے تو ان کے لیے رشتے آئیں گے، ویسے بھی چادر یا دوپٹہ نہ لینا کوئی کفر و اسلام کا مسئلہ تو نہیں ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس خیال کی کیا حیثیت ہے؟
جواب: سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ شریعتِ مطہرہ کے کسی بھی حکم کی توہین یا اسے ہلکا جاننے کا کیا حکم ہے !
صدرالشریعہ لکھتے ہیں:
” کسی شخص کو شریعت کا حکم بتایا کہ اس معاملہ میں یہ حکم ہے، اس نے کہا، ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے ہم تو رسم کی پابندی کریں گے۔ ایسا کہنا بعض مشائخ کے نزدیک کفر ہے۔
اب شرم و حیا اور غیرت کے متعلق قرآن وسنت کے انوار ملاحظہ فرمائیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
”تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرما ئیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی۔“
حبیب کبریا ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”غیرت ایمان کی علامت ہے اور بے غیرتی نفاق کی نشانی ہے۔“
دوسری جگہ ارشاد ہوا : ”اللّٰہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں اسی لیے اس نے ظاہری و پوشیدہ ہر قسم کی بے حیائیوں کو حرام فرما دیا ہے۔“

