ایک اور حدیث پاک میں فرمایا گیا:
”ایمان اور حیا دونوں ساتھی ہیں جب ایک یعنی حیا چلی جائے تو دوسرا یعنی ایمان بھی چلا جاتا ہے۔“
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایمان والے غیرت مند ہوتے ہیں اور غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ظاہر و پوشیدہ تمام بے حیائیوں سے نفرت کی جائے اور بے پردگی تو ایسی کھلی بے حیائی ہے کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا ” (بلا عذر ، شرعی) نامحرم کو دیکھنے والے پر اور جسے دیکھا جائے اس پر بھی (جبکہ وہ قصداً خود کو دکھائے ) دونوں پر اللّٰہ کی لعنت ہے۔“
مفتی محمد خلیل خاں قادری فرماتے ہیں:
”کہاں تو شریعت مطہرہ کی یہ تاکیدکہ عورت ہلکی خوشبو استعمال کرے کہ تیز خوشبو سے غیر مرد اس کی جانب متوجہ ہونگے اور کہاں بیباکی و خودنمائی کی یہ نمائشیں کہ آدھے سر کے بال اور کلائیاں اور کچھ حصہ گلے یا پنڈلی کا کھلا رہنا تو گویا کوئی عیب ہی نہیں ۔ اور زیادہ بانکپن ہوا، نمائش کا شوق بڑھا تو دوپٹہ ڈھلکا ہوا، کریب یا جالی یا باریک ململ یا نازک وائل یا اور ایسے ہی کپڑوں کا لباس، کرتے قمیص، جمپر فراک جس سے بدن کی رنگت چمکے اور اسی حالت میں ان کا غیروں میں جانا، اجنبیوں میں پھرنا، غیر مردوں کے ساتھ بازاروں اور عام گذرگاہوں میں خرید وفروخت کرنا؟
کہاں تو عورتوں کا اپنے محلہ کی مسجد میں گھر کے دروازے پر دو قدم کے فاصلے پر جانا ممنوع و ناجائز اور کہاں سیر تماشے، باجے تاشے کی محفلوں میں مجلسوں میں بڑھتی ہوئی بے حیائیاں اور پروان چڑھتی آوارگیاں ! کہاں تو حدیث میں غیروں کے گھر تو غیروں کے گھر ، جہاں نہ اپنا قابو نہ اپنا گذر، اپنے مکانوں کی نسبت آیا کہ عورتوں کو بالا خانوں (اوپری منزل) پر نہ رکھو کہ نامحرموں کی نظریں ان پر یا ان کی نظریں ان پر پڑیں گی ، اور کہاں سینما، تھیٹر ، پاپ گھر اور پارکوں کلبوں میں یہ عریانیاں اور بدلحاظیاں۔خیالی، روشنی، روشن خیالی آج کل کی ہے دلوں سے سلب اس نے کر لیا ہے ۔
نورِ ایمانی حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
”دوزخیوں میں دو گروہ ہیں۔ ان میں ایک ان عورتوں کا ہے جو بظاہر تو کپڑے پہنتی ہیں مگر حقیقت میں ننگی ہیں یعنی اس قدر باریک اور ایسی لا پرواہی سے کپڑے پہنتی ہیں کہ ان کا بدن چمکتا ہے اور کہیں سے کھلا ہوتا ہے کہیں سے چھپا ہوا۔ وہ خود بھی دوسرے مردوں کی طرف رغبت کرتی ہیں (کہ بناؤ سنگھار کر کے دوسروں کا دل لبھاتی یا سر سے دوپٹہ اتار ڈالتی ہیں تاکہ دوسرے ان کا چہرہ دیکھیں ) اور مٹک مٹک کر چلتی ہیں ( تا کہ دوسروں کو فریفتہ اور اپنی طرف مائل کریں) یہ عورتیں ہرگز جنت میں داخل نہ ہونگی اور جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور سے معلوم ہو جاتی ہے اور دور دور تک پھیلتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اپنی بیوی کے کہنے پر خلاف شرع کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اپنی بیوی اور بیٹیوں کی بے پردگی پر راضی ہو کر غیرت ایمانی سے محروم ہو جاتے ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے مرد کو عورتوں پر حاکم بنا کر فضیلت عطا فرمائی ہے۔
بعض جگہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بیوی نیک ہے اور غیرت ایمانی سے محروم شوہر اسے بے پردگی پر مجبور کرتا ہے ایسے شخص کو رحمت عالم ﷺ نے دیوث کہا اور فرمایا کہ ”دیوث پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“

