اکبر الہ آبادی نے خوب کہا ہے:
بے پردہ جو کل نظر آئیں چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
سوال میں مذکورہ خیال کہ بیٹیوں کو زیب و زینت کے ساتھ بے پردہ رکھنے سے رشتے آتے ہیں، شیطان کا دھوکہ ہے۔ اگر محض اس قسم کی نفسانی خواہشات اور لغو تاویلات کے ذریعے حرام کو حلال کیا جانے لگے تو پھر شرعی احکام بدلنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ جس شادی کیلئے بنیاد حرام کام پر رکھی جا رہی ہو اس کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ : جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا! ہاں البتہ اچھے رشتے کے لیے شریعت مطہرہ کے مطابق ضرور کوشش کرنی چاہیے جو اللّٰہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہے وہ ضرور ملے گا۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ رحمتہ القوی فرماتے ہیں:
”دلہن کو سجانا تو مسلمانوں میں قدیم سے رائج اور بہت سی احادیث سے ثابت ہے بلکہ کنواری لڑکیوں کو زیور و لباس سے آراستہ رکھنا کہ ان کے رشتے آئیں یہ بھی سنت ہے بلکہ عورت کا قدرت رکھنے کے باوجود بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ یہ مرد سے مشابہت ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عورت کا بے زیور نماز پڑھنا مکروہ جانتیں اور فرماتیں کہ کچھ اور نہ ملے تو ڈورا ہی گلے میں باندھ لے۔ بجنے والا زیور عورت کیلئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں جیسے خالہ ماموں چچا ،پھوپھی کے بیٹوں، جیٹھ، دیور، بہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو اور نہ اس کے زیور کی جھنکار نامحرم تک پہنچے ۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کنواری لڑکیوں کو زیور اور عمدہ لباس سے آراستہ رکھنے کی تلقین اس لیے فرمائی کہ خاندان کی دیگر خواتین انہیں دیکھیں گی تو اپنے لڑکوں کے لیے رشتہ کا پیغام دیں گی یا دیگر ملنے والوں کو اس طرف مائل کریں گی اور شرفاء کے ہاں اسی طرح رشتے طے کیے جاتے ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ کیا شادی سے قبل لڑکا لڑکی کو دیکھ سکتا ہے؟ اس مسئلہ کی وضاحت کیلئے قرآن و حدیث سے چند دلائل پیش خدمت ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”عورتوں میں سے جو پسند آئے اس سے نکاح کرو۔“
اس آیت کریمہ سے اشارتاً دیکھنے کی اجازت ملتی ہے کیونکہ پسند کرنا دیکھنے پر منحصر ہے۔ اس کی تائید مندرجہ ذیل احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ! میں ایک انصاری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا:” اسے دیکھ لو“۔
آقا و مولیٰﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
”جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے لگے تو اگر اس کو دیکھنا ممکن ہو تو ضرور دیکھ لئے۔“
ایک صحابی سے سرکارِ دو عالم ﷺنے فرمایا:
”تم جس سے نکاح کرنا چاہتے ہو اسے دیکھ لو، اس طرح تمہارے درمیان محبت و الفت بڑھے گی۔“
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نکاح سے قبل عورت کی دینداری، پارسائی اور حسب نسب کے علاوہ صورت کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے اور اس کے لیے عورت کو شادی سے قبل دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ شادی کے بعد اگر وہ پسند نہ آئی تو زندگی تلخ ہو جائے گی۔ لہٰذا عام حالات میں شرعی حکم یہی ہے کہ نامحرم کو نہ دیکھا جائے لیکن شادی کے بعد کی تلخیوں فتنہ و فساد سے بچنے کیلئے شریعت نے اتنی گنجائش رکھی ہے کہ جب عورت کی پارسائی، دینداری اور حسب و نسب کے متعلق اطمینان ہو جائے تو عورت کو ایک نظر دیکھ لیا جائے اور دیکھنے میں بھی عورت کی شرم و حیا اور اپنے غیرت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

