ضمناً یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ غربت یا مال کی کمی کے باعث شادی نہیں کرتے ۔ لڑکی والے مالدار لڑکا چاہتے ہیں تو لڑکے والے بھی زیادہ جہیز والی لڑکی تلاش کرتے ہیں ۔
حضورﷺ کا فرمان عالیشان ہے:
”عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے مال و دولت، حسب نسب، حسن و جمال اور دینداری۔ تمہیں چاہیے کہ دینداری کو ترجیح دو۔“
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں جو نکاح کا حکم فرمایا ہے اس کی اطاعت کرو، اس نے جو غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے پورا فرمائے گا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،
”اگر وہ فقیر ہونگے تو اللّٰہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔“
باب چہارم
غیر شرعی رسمیں شادی بیاہ کی رسمیں
سوال: آج کل شادی بیاہ کے مواقع پر مختلف رسمیں رائج ہو گئی ہیں مثلاً:پھولوں کا سہرا، اُبٹن مایوں، مہندی، بَری، بندوق سے فائرنگ، آتشبازی پٹاخے، ویڈیو فلم اور گانا بجانا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ان رسوم و رواج کی کیا حیثیت ہے؟
جواب : صدر الشریعہ فرماتے ہیں:”رسوم کی بِنا عرف پر ہے، یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ شرعاً واجب یا سنت یا مستحب ہیں لہٰذا جب تک کسی رسم کی ممانعت شریعت سے ثابت نہ ہو اس وقت تک اسے حرام یا نا جائز نہیں کہہ سکتے ، مگر یہ ضرور ہے کہ رسوم کی پابندی اس حد تک کر سکتا ہے کہ کسی حرام فعل میں مبتلا نہ ہو۔ بعض لوگ اس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پرواہ نہیں مگر رسم کا چھوڑ نا گوارہ نہیں۔
مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسمیں چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں کہ سبکدوش ہوں اور فتنہ کا دروازہ بند ہو۔ اب رسوم کے پورا کرنے کو بھیک مانگتے ، طرح طرح کی فکریں کرتے ہیں اس خیال میں کہ کہیں سے قرض مل جائے تو شادی کریں برسوں گزار دیتے ہیں اور یوں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اب ہم ان امور کا جائزہ لیتے ہیں جو سوال میں مذکور ہیں۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ نے رسوم کے متعلق دو اہم قواعد بیان فرمائے ہیں جن کا سمجھنا ضروری ہے۔ آپ فرماتے ہیں،
اول ”شرع شریف کا قاعدہ ہے کہ جس چیز کو خدا اور رسول اچھا بتا ئیں وہ اچھی ہے اور جسے بُرا فرمائیں وہ بُری، اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع میں نہ ا س کی خوبی بیان ہوئی نہ برائی ، وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل و ترک میں ثواب نہ عتاب ۔
دوم: کسی سے مشابہت کی بنا پر کسی فعل کی ممانعت اسی وقت صحیح ہے کہ جب فاعل کا ارادہ مشابہت کا ہو، یا وہ فعل اہل باطل کا شعار و علامت خاصہ ہو جس کے سبب وہ پہچانے جاتے ہوں۔ یا اگر خود اس فعل کی مذمت شرع مطہر سے ثابت ہو تو اسے برا کہا جائے گا ورنہ ہر گز نہیں ، اور پھولوں کا سہرا ان سب باتوں سے پاک ہے لہٰذا جائز ہے۔
دولہا دلہن کو اُبٹن لگانا، مائیوں بٹھانا جائز ہے (بشرطیکہ کوئی اور خلاف شرع امور جیسے گانا بجانا اور نامحرموں سے اختلاط وغیرہ نہ پائے جائیں)۔ دولھا کو مہندی لگانا، ناجائز ہے۔ ڈال بُری کی رسم کہ کپڑے وغیرہ بھیجے جاتے ہیں جائز ہے البتہ دولھا کو ریشمی کپڑے پہننا پہنانا حرام ہے۔
فی زمانہ صرف مہندی کی رسم پر لاکھوں خرچ کر دیے جاتے ہیں جو کہ اسراف و حرام ہے پھر اس موقع پر عورتوں کا بن سنور کر بے پردہ نامحرموں کے سامنے آنا حرام مزید یہ کہ گانا بجانا ہوتا ہے وہ بھی حرام ستم بالائے ستم یہ کہ ان تمام خرافات کی ویڈیو فلم بنائی جاتی ہے تاکہ بے پردہ عورتوں کے ناچ گانے اور دیگر بے حیائیاں جب دل چاہے دیکھی جائیں، ظاہر ہے کہ یہ ویڈیو فلم بنانا اور بنوانا بھی حرام و سخت گناہ کا باعث ہیں۔

