Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 32 of 90

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،

”نکاح کے اعلان کی خاطر بندوق سے چند فائر کرنا جائز ہے جبکہ کھیل کود یا فخر ومستی کے طور پر جائز نہیں۔ آتشبازی جس طرح شادیوں اور شب برات میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا،

ارشاد ہوا:

”اور فضول نہ اڑا ، بیشک (مال) اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔“

شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ”ما ثبت بالسنۃ“ میں فرماتے ہیں،

”ہندوستان کے اکثر شہروں میں لوگ کھیل تماشے کے لیے آتشبازی کرتے ہیں اور پٹاخے چھوڑتے ہیں، یہ بہت بری بدعتوں میں سے ہے۔“

ناچ اور گانے بجانے کی رسم کے متعلق صدر الشریعہ مولانا امجد علی قادری قدس سرہ فرماتے ہیں،

”اکثر جاہل گھرانوں میں رواج ہے کہ محلہ کی یا رشتہ دار عورتیں جمع ہوتی ہیں اور گاتی بجاتی ہیں یہ حرام ہے۔ اول ڈھول بجانا ہی حرام پھر عورتوں کا گانا، مزید برآں عورتوں کی آواز نامحرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی اور وہ بھی عشق و ہجر و وصال کے اشعار۔“

شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،

”ایک ناپاک ملعون رسم جو بے تمیز احمق جاہل گھرانوں نے ہندوؤں سے سیکھی یعنی فحش گالیوں کے گیت گوانا اور مجلس میں حاضر مردوں اور عورتوں کو لچھے دار سنانا، سمدھیانہ کی عفیف پاک دامن عورتوں کو زنا کے الفاظ سے تعبیر کرنا کرانا خصوصاً اس ملعون بےحیا رسم کا عورتوں کے مجمع میں ہونا، ان کا اس ناپاک فاحشہ حرکت پر ہنسنا قہقہے اڑانا ، اپنی کنواری لڑکیوں کو یہ سب کچھ سنا کر بدلحاظیاں سکھانا، بے حیا بے غیرت خبیث بے حمیت مردوں کا اس شہد پن کو جائز رکھنا، کبھی برائے نام لوگوں کے دکھاوے کو جھوٹ سچ ایک آدھ بار جھڑک دینا مگر قطعی بندوبست نہ کرنا۔ یہ وہ گندی و مردود رسم ہے جس پر اللّٰہ عزوجل کی صد ہا لعنتیں اترتی ہیں، اس کے کرنے والے، اس پر راضی ہونے والے، اس کی مناسب روک تھام نہ کرنے والے سب فاسق و فاجر، مرتکب کبائر، مستحق غضب جبار و عذاب نار ہیں۔جس شادی میں ایسی حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہرگز نہ شریک ہوں، اگر نادانستہ شریک ہو گئے ہوں تو فوراً اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی بیوی ،بیٹی، ماں،بہن کو گالیاں نہ دلوائیں، فحش نہ سنوائیں ورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریک ہونگے اور غضبِ الٰہی سے حصہ لیں گے۔ (والعیاذ باللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز اس معاملہ میں حقیقی بہن بھائی بلکہ ماں باپ کی بھی رعایت و مروت روا نہ رکھیں کیونکہ ”خدا کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری نہیں۔“

ناچ کے متعلق صدر الشریعہ رقم طراز ہیں:

”ناچ میں جن فواحش و بدکاریوں اور مخربِ اخلاق باتوں کا اجتماع ہوتا ہے ان کے بیان کی حاجت نہیں۔ ایسی ہی مجلسوں میں اکثر نوجوان آوارہ ہو جاتے ہیں ، دہن دولت برباد کر بیٹھتے ہیں، بازاریوں سے تعلق اور برے برے نتائج رونما ہوتے ہیں اگر کوئی ان بدکاریوں سے محفوظ رہا تو اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ حیا و غیرت اٹھا کر طاق پر رکھ دیتا ہے۔“

مذکورہ بالا نا جائز رسموں کو ایسا لازم سمجھ لیا گیا ہے کہ گویا ان کے بغیر شادی ہی نہ ہو گی۔ صدرالشریعہ رقم طراز ہیں،

”ناچ، باجے اور آتشبازی حرام ہیں، کون ان کی حرمت سے واقف نہیں مگر بعض لوگ ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو گویا شادی ہی نہ ہوئی بلکہ بعض تو اتنے بیباک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ حرام کام نہ ہوں تو اسے غمی اور جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں (خدا کی پناہ) یہ خیال نہیں کرتے کہ بری رسم ایک تو گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے دوسرے مال ضائع کرنا ہے تیسرے تمام تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے گناہوں کے مجموعہ کے برابر اس اکیلے پر گناہ کا بوجھ ہے (کہ اگر یہ اپنے گھر گناہوں کے سامان نہ پھیلاتا تو آنے والے ان گناہوں میں مبتلا نہ ہوتے)۔ 

Share:
keyboard_arrow_up