کیا موسیقی روح کی غذا ہے؟
سوال : بعض احادیث میں دف بجانے اور اشعار پڑھنے کا ذکر ملتا ہے لہٰذا اگر شادی بیاہ کے مواقع پر دف بجا کر گانے وغیرہ گا لیے جائیں تو کیا حرج ہے ؟ بعض لوگ موسیقی کو روح کی غذا کہتے ہیں اس کے متعلق بھی ارشادفرمائیے۔
جواب : شیخ الاسلام مجدد دین وملت امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس مسئلہ کو بھی اپنے فتاوی میں نہایت تحقیق و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس کا خلاصہ تحریر کیے دیتا ہوں۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
”شریعت مطہرہ نے نکاح کے اعلان کی غرض سے صرف دف بجانے کی اجازت دی ہے جبکہ اس سے تجاوز کر کے مکروہ کھیل اور شیطانی لذت حاصل کرنے کی حد تک نہ پہنچے۔ اس لیے علماء نے یہ قید لگائی کہ دف موسیقی کے قواعد پر نہ بجایا جائے، سُر تال کی رعایت نہ ہو اور نہ ہی اس میں جھانج یا گھنگرو ہوں کہ وہ مستی لاتے ہیں اور ناجائز ہیں۔ دف کا بجانا مردوں کو ہر طرح مکروہ ہے اور نہ ہی یہ باعزت و باحیا عورتوں کو زیب دیتا ہے بلکہ نابالغہ چھوٹی چھوٹی بچیاں بجائیں اور اگر اس کے ساتھ کچھ سیدھے سادے اشعار یا سہرے کے اشعار ہوں جن میں نہ کوئی فحش مضمون ہو نہ کوئی بے حیائی کا ذکر، نہ فسق و فجور کی باتیں، نہ عورتوں میں عشقیہ باتوں کے چرچے ،اور نہ ہی ان کی آواز نامحرم مردوں کو پہنچے غرض یہ کہ ہر طرح منکرات اور فتنوں سے پاک ہوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے اپنی ایک رشتہ دار عورت کا نکاح انصار میں کر دیا، حضور ﷺ تشریف لائے تو فرمایا، کیا تم نے لڑکی کو رخصت کر دیا ؟ عرض کی، ہاں۔ فرمایا: اس کے ساتھ کسی گانے والی کو بھیجا ہے؟ عرض کی، نہیں۔ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا ، انصار کو گیت پسند ہیں، اچھا ہوتا اگر تم کسی کو ساتھ بھیج دیتے جو یہ گیت گاتے، ”اتینا کم اتيناكم فحيانا وحياكم“ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے ، اللّٰہ ہمیں زندہ رکھے اور تمہیں بھی زندہ رکھے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
حلال (نکاح) اور حرام (زنا) کے درمیان امتیاز آواز اور دف سے ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ،
عید کے دن دو بچیاں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے گھر دف بجا کر گیت گا رہی تھیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ تشریف لے آئے اور انہیں ڈانٹنے لگے۔آقا و مولیٰ ﷺ وہاں چادر اوڑھے آرام فرما تھے آپ نے چہرہ اقدس سے چادر ہٹا کر فرمایا، اے ابوبکر ! انہیں کچھ نہ کہو کیونکہ آج عید کا دن ہے۔
بخاری شریف جلد دوم میں ہے کہ:
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللّٰہ عنہا کی شادی کے موقع پر حضور ﷺ تشریف لائے تو کچھ بچیوں نے دف بجا کر شہدائے بدر کی شجاعت کے اشعار پڑھے۔
اس حدیث کے تحت امام بدرالدین محمود عینی فرماتے ہیں:
”اس حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ دف بجانا اور جائز گانے کے ذریعے نکاح کا اعلان کرنا جائز ہے تا کہ نکاح اور زنا میں فرق ہو جائے کیونکہ زنا خفیہ ہوتا ہے۔
مرقاۃ میں ہے کہ وہ لڑکیاں حد شہوت کو نہ پہنچی تھیں اور ان کے دف میں گھنگرو نہ تھے۔ یہ حدیث نکاح کے اعلان کی غرض سے اور ولیمہ کے وقت دف بجانے کی دلیل ہے ، بعض لوگوں نے ختنہ، عیدین، سفر سے آمد اور احباب کی خوشی کے اجتماع کو بھی اسی سے لاحق کیا ہے لیکن یہاں وہ دف مراد ہے جو اگلوں کے زمانہ میں ہوتا تھا اور ایسا دف جس میں گھنگر و ہوں وہ بالا تفاق نا جائز ہونا چاہیے۔

