اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ مروجہ گانے بجانے کو ناجائز وحرام قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں؛
”ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور کچھ لوگ کھیل (تماشہ ) کی باتیں خریدتے ہیں تا کہ اللّٰہ کی راہ سے بھکا دیں بے سمجھے، اور اسے ہنسی (مذاق) بنا لیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔“
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود، عبداللّٰہ بن عباس، امام حسن بصری، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، مکحول و غیر ہم ائمہ صحابہ و تابعین رضی اللّٰہ تعالی عنہم اجمعین نے اس آیت کریمہ میں لَہْوَ الحَدِیْث (کھیل تماشہ کی بات) کی تفسیر گانے بجانے سے فرمائی ہے۔
ابو الصباء کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :
”کھیل کی بات سے مراد گانا ہے اُس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
بلکہ خود حدیث پاک میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے:
گانے والی عورتوں کو سکھانا اور ان کی خرید و فروخت کرنا جائز نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے۔ ایسے ہی کاموں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللّٰہ کی راہ سے دور کر دیں۔ یہ حدیث امام بغوی نے ابوامامہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ۔
امام اہلسنت قرآن حکیم سے دوسری دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ابلیس لعین سے فرمایا،
”دور ہو، تو ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو بیشک سب کا بدلہ جہنم ہے بھرپور سزا، اور ڈگا دے (یعنی پھسلا دے) ان میں سے جس پر تو قدرت پائے اپنی آواز سے۔“
امام مجاہد نے جو سلطان المفسر ین عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے جلیل بزرگ شاگردوں میں سے ہیں، اس آیت میں ”شیطان کی آواز“ کی تفسیر گانے بجانے اور مزامیر سے کی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ
”جو آواز اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف منہ سے نکلے وہ شیطانی آواز ہے۔“
بعض علماء نے گانے بجانے کو ”زنا کا منتر“ قرار دیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف خدا کی یاد سے غافل کرتا ہے بلکہ نفسانی جذبات پر ایسے اثر کرتا ہے جیسے آگ پر تیل ڈالا جائے۔ تعجب تو یہ ہے کہ بعض کلمہ گو مسلمان بھی غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی اسے روح کی غذا قرار دیتے ہیں حالانکہ گانے بجانے کی مذمت میں قرآن پاک کی مذکورہ آیات کے علاوہ متعدد احادیث مبارکہ بھی موجود ہیں۔
چند احادیث ملاحظہ ہوں:
رسولِ معظم ﷺ کا ارشاد ہے: ”گانا دل میں ایسے نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پروان چڑھاتا ہے۔“
آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا: ”جو گانے والی لونڈی کی مجلس میں اس کا گانا سنے گا قیامت کے دن اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔
اُس دور میں لونڈیاں ہی گایا کرتی تھیں اور گانا سننے کے لیے ان کے پاس جانا پڑتا تھا اس لیے حدیث پاک میں ان کا ذکر ہوا جبکہ موجودہ دور میں آڈیو/ ویڈیو کیسیٹ کے ذریعے یہ برائی گھر گھر پھیل رہی ہے لہذا یہ حدیث مبارکہ ان سب لوگوں کے لیے باعث عبرت ہے جو کسی بھی ذریعے سے گانے سنتے ہیں ۔ نیز جب گانا سننے والے کے لیے یہ عذاب ہے تو گانے والے کس قدر عذاب کے مستحق ہونگے ؟ العیاذ باللہ تعالیٰ
رحمت عالم ﷺ کا ارشاد ہے:
”بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے شراب ، جوا اور موسیقی کے آلات حرام فرما دیے نیز ہر نشہ آور چیز کو بھی حرام فرما دیا۔“
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
”میری امت کے کچھ لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور گانے بجانے کو حلال سمجھیں گے (یعنی جائز کاموں کی طرح انہیں اختیار کریں گے)۔“

