Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 35 of 90

حضور پُر نور کا ارشاد:

”میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر پئیں گے اور معازف و مزامیر ( آلات موسیقی) کے ساتھ گانے سنیں گے۔ اللّٰہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور بعض کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور سؤر بنادے گا۔“

آقا و مولیٰ   نے فرمایا:

”جب گانے والی عورتیں اور گانے بجانے کے آلات عام ہو جائیں اور کثرت سے شراب پی جائے اور بعد میں آنے والے اگلے لوگوں پر لعنت کریں اس وقت تم سرخ ہوا، زلزلے، زمین میں دھنسنے، صورتیں مسخ ہونے اور پتھر برسنے کا نیز ان نشانیوں کا انتظار کرنا جو لگا تار ظاہر ہونگی جیسے ہار کا دھاگہ توڑ دیا جائے تو اس کے دانے مسلسل گر رہے ہوں۔“

نور مجسم کا فرمان عالیشان ہے:

”مجھے میرے رب نے باجوں اور مزامیر یعنی موسیقی کے آلات اور بتوں اور صلیبوں اور جاہلیت کی چیزیں مٹانے کا حکم دیا ہے۔“

غیب بتانے والے آقا نے فرمایا:

”اس امت کے آخر میں ایسے لوگ آئیں گے جو ایک شب شراب نوشی اور گانے بجانے میں مشغول ہونگے کہ اچانک ان پر اللّٰہ کا عذاب نازل ہوگا اور انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا جائے گا۔ عرض کی گئی، کیا وہ مسلمان ہونگے ؟ فرمایا، ہاں وہ کلمہ گو اور روزہ رکھنے والے ہونگے لیکن وہ آلات موسیقی اور گانے والی عورتوں کے عادی ہو چکے ہونگے۔“

آپ خود فیصلہ کر لیجیے کہ گانا سننا روح کی غذا ہے یا اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب اور آقا و مولیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے؟

اب آپ قرآن سے پوچھئے کہ روح کی غذا کیا ہے؟

جواب ملے گا: ” جب ان (ایمان والوں ) پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے۔“

دوسری آیت ملاحظہ فرمائیے:

”وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔“

معلوم ہوا کہ مومنوں کے لیے قرآن کریم کی تلاوت روح کی غذا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر روح کی غذا ہے؛ چونکہ رسول کریم کا ذکر بھی ذکر ِالٰہی ہے اس لیے وہ بھی روح کی غذا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”بیشک اللّٰہ نے تمہارے لیے ذکر نازل فرمایا، اور ایک ایسا رسول جو تم پر اللّٰہ کی روشن آیتیں تلاوت کرتا ہے۔“یہاں ذکر سے مراد رسول کریم ہوتے ہیں ۔

قاضی عیاض مالکی نے” کتاب الشفا“ جلد اول میں یہ حدیث قدسی نقل فرمائی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”میں نے ایمان کا مکمل ہونا اپنے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر کرنے پر موقوف کر دیا ہے اور میں نے تمہارے ذکر کو اپنا ذکر بنا دیا ہے پس جس نے تمہارا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا۔“

پس ثابت ہو گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب لبیب کا ذکر اور قرآن حکیم کی تلاوت ایمان والوں کے لیے دلوں کا سکون اور روح کی غذا ہیں۔ غموں کا دور ہونا اور گناہوں سے پاک ہونا بھی روحانی نشو ونما کا اہم ذریعہ ہے اس لحاظ سے یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ درود وسلام بھی روح کی غذا ہے۔

آقا و مولی کی بارگاہ بیکس پناہ میں جب ایک صحابی نے عرض کیا کہ میں تمام وقت درود شریف پڑھوں گا تو آقا کریم نے فرمایا،” پھر تو یہ تمہارے تمام غموں کو دور کر دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا۔“

Share:
keyboard_arrow_up