Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 36 of 90

باب پنجم حقوق العباد

شوہر و بیوی کے مابین اختلافات

سوال: ہمارے معاشرے میں شوہر و بیوی کے درمیان نااتفاقی ولڑائی عام سی بات ہو گئی ہے اس کا کیا سبب ہے ؟ اس مسئلہ کے حل کے بارے میں اسلامی تعلیمات ارشاد فرمائیے۔

جواب: شوہر و بیوی کے مابین لڑائی جھگڑے یا نا اتفاقی کا ایک بڑا سبب علم دین سے ناواقفیت اور دین سے دوری ہے۔ آقا و مولیٰ نے شوہر و بیوی کے علیحدہ علیحدہ حقوق بیان فرما دیے ہیں اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے دونوں محبت و احترام سے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے رہیں۔

اس موضوع پر مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے شاگرد و خلیفہ صدر الشریعہ علامہ مولانا امجد علی قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:

”اس نا اتفاقی کا بڑا سبب یہ ہے کہ شوہر و بیوی دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھتے اور باہم رواداری سے کام نہیں لیتے ۔ مرد چاہتا ہے کہ عورت کو لونڈی سے بدتر کر کے رکھے اور عورت چاہتی ہے کہ مرد میرا غلام رہے، جو میں چاہوں وہ ہو ، چاہے کچھ ہو جائے مگر میری بات میں فرق نہ آئے۔ جب ایسے خیالات فاسدہ طرفین میں پیدا ہونگے تو کیونکر نبھ سکے گی؟ دن رات کی لڑائی اور ہر ایک کے اخلاق و عادات میں برائی اور گھر کی بربادی اس کا نتیجہ ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح یہ حکم آیا ہے کہ ”مرد عورتوں پر حاکم ونگراں ہیں۔ اس سے مردوں کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا ہے، ”عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کرو۔“ مرد کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے ذمہ عورت کے کیا حقوق ہیں، وہ انہیں ادا کرے اور اسی طرح عورت شوہر کے حقوق دیکھے اور پورے کرے۔ یہ نہ ہو کہ ہر ایک اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور دوسرے کے حقوق سے سروکار نہ رکھے اور یہی فساد کی جڑ ہے۔

یہ بہت ضروری ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بیجا باتوں کو تحمل سے برداشت کرے اور اگر کسی موقع پر دوسری طرف سے زیادتی ہو تو یہ فساد پر آمادہ نہ ہو کیونکہ ایسی جگہ ضد پیدا ہو جاتی ہے اور سلجھی ہوئی بات الجھ جاتی ہے۔

اب شوہر و بیوی کے حقوق کے بارے میں ہم قرآن کریم سے رہنمائی لیتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”مرد افسر (یعنی حاکم ) ہیں عورتوں پر، اس لیے کہ اللّٰہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے، تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (اپنی عفت اور شوہر کے گھر ، مال اور راز کی)، جس طرح اللّٰہ نے حفاظت کا حکم دیا، اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں ( ہلکی ضرب ) مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو، بیشک اللّٰہ بلند (اور ) بڑا ہے۔“

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ:

حضرت سعد بن ربیع رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی بیوی کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مارا، ان کے والد انہیں سید عالم کی خدمت میں لے گئے اور ان کے شوہر کی شکایت کی، اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کو عورتوں پر حاکم بنا یا گیا ہے اور عورتوں کو ان کی اطاعت لازم ہے اور مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کی تمام جائز ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی حفاظت و نگہبانی کریں نیز ان کی اصلاح اور دینی تربیت کا بھی خاص اہتمام کریں۔ چونکہ مرد کو گھر کی ریاست میں حاکم کا درجہ دیا گیا ہے اس لیے عورت پر لازم ہے کہ وہ اس حاکم کی اطاعت کرے ورنہ گھر کی سلطنت کا امن و سکون تباہ و برباد ہو جائے گا البتہ عورت کسی خلاف شرع کام میں شوہر کی اطاعت کی پابند نہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up