اللّٰہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر جو فضیلت دی، اس کے متعلق صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمتہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں :
”مردوں کو عورتوں پر عقل و دانائی، (جسمانی قوت اور) جہاد، نبوت و خلافت، امامت و اذان و خطبہ ،جماعت وجمعہ و تکبیر و تشریق اور حدود قصاص کی شہادت کے اور ورثہ میں دو گنے حصے اور تعصیب اور نکاح وطلاق کے مالک ہونے اور نسبوں کے ان کی طرف نسبت کیے جانے اور نماز روزہ کے کامل طور پر قابل ہونے کے ساتھ ( کیونکہ ان کے لیے کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے کہ وہ نماز روزہ کے قابل نہ ہوں ) اور داڑھیوں اور عماموں کے ساتھ فضیلت دی۔
مذکورہ بالا آیت کریمہ کی روشنی میں علامہ مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی رحمۃ اللّٰہ علیہ رقم طراز ہیں:
”عورت کے ذمہ یہ تین فرائض ہیں جو قرآن کریم نے اس پر عائد کیے۔
اول: اپنے شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہو۔
دوم: سلیقہ شعار ہو کہ شوہر کے مال و دولت کو برباد نہ کرے۔
سوم: عفت مآب ہوتا کہ اپنی اور اپنے شوہر کی عزت و ناموس پر آنچ نہ آنے دے۔
مذکورہ آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نافرمانی کی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ پہلے بیوی کو پیار سے سمجھائے کہ یہ کام اللّٰہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کو پسند نہیں ہے اور قرآن وحدیث کی رُو سے تم پر میری اطاعت لازم ہے چنانچہ ہمیں کوئی خلاف شرع کام نہیں کرنا چاہیے۔ اگر سمجھانے سے بات نہ بنے تو شوہر کو چاہیے کہ اپنا بستر علیحدہ کر لے مگر بیوی کو ہرگز ہرگز گھر سے نہ نکالے۔ شوہر کا یوں ناراضگی ظاہر کرنا بھی اصلاح کا حکمت بھرا طریقہ ہے، اگر بیوی پھر بھی ضد اور نافرمانی سے باز نہ آئے اور بدزبانی پر اتر آئے تو شوہر کو اختیار ہے کہ بیوی کو ہلکی مار مارے مگر چہرے پر نہ مارے۔
احادیث مبارکہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر بیوی کی اصلاح کے لیے اسے معمولی طور پر مارنا جائز فرمایا ہے: جب شوہر اپنے لیے آرائش وزینت کا حکم دے اور بیوی انکار کر دے۔ جب شوہر صحبت کے لیے بلائے اور وہ عذر شرعی کے بغیر منع کر دے۔ جب عورت نماز نہ پڑھے اور حیض و جنابت کا غسل کرنے سے غافل رہے۔ جب عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلتی ہو۔
ازدواجی تعلقات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے کی حاجت ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے لہذا جو اس حقیقت کو ذہن نشین رکھے گا، وہ مارنے کا ہرگز ارادہ نہ کرے گا۔ یہ تمام احکامات اس لیے دیے گئے ہیں کہ اختلاف و جھگڑے کی صورت میں معاملہ فوراً طلاق تک نہ پہنچے بلکہ ابتدا میں ہی اسے پیار و محبت کے ذریعے یا ناراضگی ظاہر کر کے ختم کیا جائے۔ دراصل شوہر و بیوی کے مابین تعلق کی بنیاد ہی الفت و محبت پر رکھی گئی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے۔“
اس آیت کے تحت مفتی محمد خلیل خاں قادری فرماتے ہیں:
آیت کریمہ میں تین باتیں بیان فرمائی گئیں جو خانگی نظام زندگی کے لیے سنگ بنیاد اور بطور اصل کے بیان ہوئی ہیں اور جس کا لحاظ شوہر و بیوی دونوں کو یکساں رکھنا ضروری ہے۔
اول: مردوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری بیویاں تمہاری ہی ہم جنس مخلوق ہیں، تمہاری جیسی خواہشات، جذبات اور احساسات ان میں بھی موجود ہیں،بے روح مخلوق اور بے حس جسم نہیں۔

