Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 38 of 90

دوم: ان کی پیدائش کا منشا یہ بھی ہے کہ وہ تمہارے لیے سرمایہ، راحت و تسکین ہیں، تمہارے لیے سکون قلب کا باعث ہیں، تمہارے درد کا درماں اور تمہارے غم کا مداوا ہیں، تمہارے لیے پیدا کی گئی ہیں تا کہ تمہارا دل ان سے لگے ، تمہارا جی ان سے بہلے۔

سوم : تمہارے اور ان کے تعلقات کی بنیاد ہی باہمی محبت، اخلاص اور ہمدردی پر ہونی چاہیے۔

انسان کو زندگی کا سفر نہایت دشوار اور پیچیدہ راستوں میں طے کرنا پڑتا ہے، اس سفر میں خوشیوں کی روشنیاں بھی ہیں اور غموں کے اندھیرے بھی، کامیابیوں کی امیدیں بھی ہیں اور ناکامیوں کی وحشتیں بھی۔ بلکہ اکثرو بیشتر زندگی مصائب و آلام میں گھری رہتی ہے۔ ایسے مشکل حالات میں انسان کو اپنے ایک ہم جنس رفیق سفر کی طلب ہوتی ہے جو اس کے پست حوصلوں کو بلند کرے، جو اس کے دکھ سکھ میں شریک ہو اور جو اس کے لیے سکون قلب کا باعث ہو۔ رب کریم کا احسان ہے کہ اس نے انسان کو اس کی جنس سے بیوی کی صورت میں ایک رفیق سفر عطا کیا اور اس کا مقصد تخلیق انسان کے لیے باعث تسکین ہونا بیان فرمایا۔

نیز ان کے درمیان محبت و رحمت کے ایسے گرانقدر جذبات پیدا فرمائے کہ دونوں ایک دوسرے کا پردہ بن گئے جو ہر عیب کو چھپا لیتا ہے اور زیب وزینت کا باعث بھی ہے۔ جب اخلاص و محبت سے تعلق قائم ہو جائے تو پھر علیحدگی تو در کنار اس کا تصور ہی اذیت و پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔

مذکورہ آیت مبارکہ سے یہ بات بھی ظاہر ہو رہی ہے کہ میاں بیوی کی گھریلو زندگی پر سکون اور خوشگوار ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر عورت کی تخلیق کا مقصد پورا نہیں ہوتا کیونکہ اسے تو رب تعالی نے سکون و آرام کا باعث قرار دیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس لڑائی جھگڑے والی صورتحال پیدا کرنے میں عورت کی بجائے مرد یا پھر دونوں ہی قصور وار ہوں۔

اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو بھی سمجھیں اور اپنے فرائض کو بھی اور پھر ہر ایک اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرے۔

شوہر و بیوی کے حقوق و فرائض:

سوال : شریعت مطہرہ میں شوہر اور بیوی کے جو حقوق اور فرائض بیان ہوئے ہیں وہ ارشاد فرمائیے۔

جواب: کچھ اہم باتیں پچھلے سوال کے جواب میں تحریر کی جا چکی ہیں اس مضمون کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلے وہ احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے جن میں شوہر کے حقوق اور بیوی کی ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی مخلوق کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہ کرے گی جب تک شوہر کے تمام حقوق ادا نہ کرے۔“

نورِ مجسم کا فرمان عالیشان ہے:

جو عورت اس حال میں انتقال کرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔

حبیب کبریا نے فرمایا:

”عورت پر اس کے شوہر کا عظیم حق ہے اتنا عظیم حق کہ اگر شوہر کا تمام جسم زخمی ہو جس سے پیپ اور خون بہتا ہو اور عورت اس کے زخمی جسم کو زبان سے چاٹے تب بھی شوہر کا حق ادا نہ ہو گا“۔

حضور اکرم کا ارشاد ہے:

”جب عورت پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے ، جنت میں داخل ہو جائے ۔“

Share:
keyboard_arrow_up