Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 39 of 90

آقا و مولیٰ   نے فرمایا:

”وہ عورت سب سے بہتر ہے جسے اس کا شوہر دیکھے تو خوش ہو جائے ، جب اسے حکم دے تو وہ اطاعت کرے اور اس کے جان ومال کے حوالے سے جو باتیں اس کے شوہر کو نا پسند ہوں، ان کی مخالفت نہ کرے۔“

نورِ مجسم کا ارشاد ہے،

”جب شوہر اپنی بیوی کو بستر پر بلائے تو وہ انکار کر دے اور اس کا شوہر ناراضگی میں رات گذارے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے ہیں۔“

مختار كل ختم الرسل نے فرمایا:

”عورت پر سب لوگوں سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے جبکہ مرد پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا ہے۔“

نبی کریم کا ارشاد ہے:

”شوہر کا حق عورت پر یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اور سوائے فرض کے کسی دن بھی اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے، اگر بغیر اجازت روزہ رکھا تو گناہگار ہوئی ، بغیر اجازت اس کا کوئی عمل مقبول نہیں اگر عورت نے کر لیا تو شوہر کو ثواب ہے اور عورت کو گناہ۔ نیز بغیر اجازت شوہر کے گھر سے نہ جائے اگر ایسا کیا تو جب تک تو بہ نہ کرے اللّٰہ اور فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ عرض کی گئی، اگر شوہر ظالم ہو؟ ارشاد فرمایا، اگر چہ ظالم ہو (پھر بھی بغیر اجازت گھر سے نہ جائے)۔“

احمد مختار نے فرمایا:

”اے عورتو! خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش میں رہو کیونکہ اگر عورت کو معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک شوہر کھانا کھاتارہتا یہ اس کے پاس کھڑی رہتی۔“

آقا و مولیٰ کاارشاد ہے:

”عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بستر کو نہ چھوڑے اور اس کی قسم کو سچا کردےاور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور اس شخص کو مکان میں نہ آنے دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔“

نورِ مجسم نے فرمایا:

”عورت ایمان کا مزا اس وقت تک نہ پائے گی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔“

محبوب خدا کا ارشاد ہے:

”جو عورت خدا کی اطاعت کرے اور شوہر کا حق ادا کرے اور اسے نیکی کی یاد دلائے نیز اپنی عصمت اور اس کے مال میں خیانت نہ کرے تو اس کے اور شہداء کے درمیان جنت میں ایک درجے کا فرق ہوگا۔ اگر اس کا شوہر مومن اور نیک ہے تو جنت میں وہ اس کی بیوی ہو گی ورنہ شہداءمیں سے کوئی اس کا شوہر ہو گا۔“

ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے بیوی پر شوہر کے مندرجہ ذیل شرعی حقوق بیان کیے ہیں:

عورت شوہر کو جماع سے نہ رو کے جبکہ کوئی شرعی عذر نہ ہو۔

عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر کہیں نہ جائے۔ وہ

کسی نامحرم (اجنبی ) کو شوہر کی غیر موجودگی میں گھر نہ آنے دے۔

اپنی عصمت اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔

ان فرائض کے علاوہ بعض حقوق اخلاقی طور پر عورت کی ذمہ داری ہوتے ہیں جیسے شوہر سے حسن اخلاق سے پیش آنا، ہر جائز کام میں شوہر کی فرمانبرداری، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، سینا پرونا، صفائی ستھرائی اور اولاد کی اچھی تربیت وغیرہ ۔

بیوی کی یہ بھی نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ شوہر کی آمدنی کا خیال رکھتے ہوئے خرچ کرے نیز شوہر سے بیجا مطالبے نہ کرے۔

بیویوں کے حقوق کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”اور ان سے اچھا برتاؤ کرو، پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللّٰہ اس میں بہت بھلائی رکھے۔“

Share:
keyboard_arrow_up