Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 40 of 90

یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ”عورتوں کا بھی حق (مردوں پر ) ایسا ہی ہے جیسا ان پر (مردوں کا حق) ہے شرع کے موافق ، اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے۔“

اب وہ احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں: جن میں شوہر پر بیوی کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں۔

غیب بتانے والے آقا کا ارشاد ہے:

”میں تمہیں عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت کرتا ہوں تم میری اس وصیت کو قبول کرو۔ بیشک وہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہے اگر تم اسے سیدھا کرو گے تو توڑ دو گے اور اگر اس کو چھوڑ دو تو یہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔“

دوسری روایت میں ہے کہ:

عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی وہ تمہارے لیے سیدھی نہیں ہو سکتی، اگر تم اس سے نفع لینا چاہو تو اسی حالت میں نفع حاصل کرو اور اگر تم سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔

آقائے دو جہاں نے فرمایا،

”عورتوں کے معاملے میں تم اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے ان کو اللّٰہ تعالیٰ کی امان کے ساتھ لیا ہے۔“

حضور نے فرمایا:

تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہو۔

رحمت عالم اپنے اہل خانہ کے ساتھ کیسا حسنِ سلوک فرماتے تھے، اس کی تفصیل جاننے کیلئے فقیر کی کتاب ” جمالِ مصطفےٰ “کا مطالعہ فرمائیں۔

نورِ مجسم کا ارشاد ہے:

جب تم کھاؤ اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو، اسے گالی نہ دو اور اسے گھر سے نہ نکالو ۔

حبیب کبریا ﷺ  نے فرمایا:

کوئی اپنی ایمان والی بیوی کو بُرا نہ جانے ، اگر اس کی کوئی عادت نا پسند ہو تو کوئی دوسری عادت پسند بھی ہو گی۔

شوہر و بیوی میں نااتفاقی اور لڑائی کروانے والوں کی مذمت میں ارشاد فرمایا:

”وہ ہم میں سے نہیں جو عورت اور اس کے شوہر یا غلام اور اس کے آقا میں پھوٹ ڈالے۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے:

”کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کریں۔“

ایک صحابی نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ ! میری بیوی تیز زبان والی ہے (اسے کیا سزا دی جائے؟) ارشاد ہوا، اسے طلاق دیدو۔ عرض کی، اس سے میرے بچے ہیں اور ہمارا پرانا ساتھ ہے۔ ارشاد فرمایا، اسے حکم دو یعنی نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہو گی تو نصیحت قبول کرے گی، اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارنا۔

نبی کریم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنی بیوی کو بے دردی سے غلاموں کی طرح نہ مارے، پھر رات میں اس سے صحبت کرے گا۔“

مختار کل ختم الرسل کا ارشاد ہے:

”عورتیں تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں، تم ان سے سختی کا برتاؤ نہ کرنا سوائے اس کے کہ وہ کھلی نافرمانی پر اتر آئیں ۔ اگر وہ ایسا کریں تو ان سے بستر علیحدہ کر لو اور اگر ان کی مزید نافرمانیوں کے باعث انہیں مارو تو ایسا نہ مارنا کہ کوئی شدید چوٹ آئے؟ اور پھر جب وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو انہیں ستانے کے بہانے نہ ڈھونڈ نا۔

Share:
keyboard_arrow_up