Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 41 of 90

 

“ان احادیث کریمہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے شوہر پر بیوی کے مندرجہ ذیل شرعی حقوق بیان کیے ہیں:

مرد جیسا خود کھائے ویسا ہی بیوی کو کھلائے ۔

جیسا خود پہنے ویسا لباس اسے پہنائے نیز اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کی دیگر جائز ضروریات پر خرچ کرے یا اسے خرچہ دے۔

حسب استطاعت، بیوی کے لیے رہائش کا مناسب انتظام کرے۔ کم از کم ایک بار مجامعت کرے۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ کوئی مرد چار ماہ سے زائد اپنی بیوی سے دور نہ رہے۔ ان فرائض کے علاوہ بیوی سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا، اس کی مناسب عرصہ بعد اس کے والدین سے ملاقات کرانا، اس کی دینی تربیت کرنا وغیرہ یہ سب شوہر کی اخلاقی ذمہ داریاں ہیں جو کہ بیوی کے حقوق میں سے ہیں۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں سے سب سے پہلی حدیث شریف کے تحت شارحین فرماتے ہیں کہ،

”عورت کی فطرت میں عقل وفہم کے اعتبار سے کمزوری اور اپنی بات منوانے کی ضد شامل ہے اور یہی اس کا ٹیڑھا پن ہے۔ لہٰذا عورت میں اگر ایسی خامیاں ہوں جو خلاف شرع نہ ہوں تو ان خامیوں اور غلطیوں کو برداشت کیا جائے اور نرمی و محبت سے اصلاح کی کوشش کی جائے ۔

اگر ہر بات پر اسے ملامت کی جائے گی اور اس کی غلطیوں پر سخت رویہ اختیار کیا جائے گا تو پھر معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ (عورت کی اصلاح وسزا کے متعلق سورہ نساء کی آیت ۳۴ کے حوالے سے پچھلے سوال کے جواب میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔)

مفتی خلیل خاں قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ رقم طراز ہیں:

”اسلامی خاندان میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا خیر خواہ ، ایک دوسرے کا ہمدرد اور ایک دوسرے کا پردہ پوش رہنا چاہیے اور باہمی رواداری سے کام لینا چاہیے۔ دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے، وہ اس کے لیے اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ اس کے لیے اوڑھنا بچھونا۔ جس طرح لباس جسم کے عیبوں کو چھپاتا ہے اور اس کے حسن و خوبی کو ابھارتا ہے اسی طرح شوہر اور بیوی کا اخلاقی کمال یہ ہے کہ ایک دوسرے کی کمزوری کو چھپائیں، اس پر صبر کریں اور ایک دوسرے کی خوبیوں کو نگاہ میں رکھیں اور بہتر سے بہتر صورت میں اپنے باہمی تعلقات کو ظاہر کریں۔

والدین پر اولاد کے حقوق

سوال : اسلام نے والدین پر اولاد کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں انہیں بیان فرمائیے۔

جواب : بچوں کو سنوارنے یا بگاڑنے میں تین تربیت گاہیں نہایت اہم کر دار ادا کرتی ہیں۔ سب سے پہلی تربیت گاہ گھر ہے اس کے بعد مدرسہ یا اسکول اور پھر پورا معاشرہ تربیت گاہ بن جاتا ہے۔ یہ دعویٰ اہل فہم کے لیے کسی دلیل کا محتاج نہیں کہ بچے کی تربیت میں سب سے بنیادی کردار ماں باپ کا ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اچھی تربیت کی بنیاد نہیں رکھیں گے تو بعد کے مراحل میں بچے کی اچھی تربیت دشوار و مشکل ہوتی جائے گی۔ موجودہ دور میں معاشرے اور ماحول سے اولاد کے بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں جبکہ مدرسہ یا اسکول سے بھی اچھی تربیت کے سلسلے میں کوئی نمایاں کار کردگی دیکھنے میں نہیں آ رہی، گویا اب اولاد کی اچھی تربیت کا تمام تر انحصار گھر کی اولین درسگاہ پر ہے جس کے نگراں اور ذمہ دار والدین ہیں۔

اسی اہمیت کے پیشِ نظر ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

”تمہارے مال اور تمہارے بچے (تمہاری) جانچ (یعنی آزمائش ) ہی ہیں۔“

یہاں مال و اولاد کو آزمائش اس لیے فرمایا گیا کہ لوگ یا تو ان کی محبت میں ایسے مشغول ہوتے ہیں کہ رب تعالیٰ کی بندگی اور آقا ومولیٰ کی اطاعت سے غافل ہو جاتے ہیں اور یا پھر وہ اولاد کی دینی تربیت سے غافل رہتے ہیں اور یہ دونوں صورتیں اللّٰہ تعالیٰ کوسخت ناپسند ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up