چنانچہ ارشاد ہوا:
”اے ایمان والو ! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ“ ۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی ، میرے آقا ﷺ! ہم اپنے گھر والوں کو آگ سے کس طرح بچا سکتے ہیں ؟
آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا: ”جن کاموں سے اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہے تم اپنے گھر والوں کو بھی ان سے منع کرو اور جن کاموں کے کرنے کا تمہیں حکم دیا ہے تم اپنے گھر والوں کو ان کا حکم دو۔“یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ جیسے ماں باپ ہونگے اولاد میں بھی ان کا اثر ضرور ظاہر ہوگا۔
اس لیے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ
”سب سے پہلا حق اولاد کے وجود سے بھی پہلے یہ ہے کہ آدمی اپنا نکاح کسی رذیل کم قوم سے نہ کرے کہ بری رگ ضرور رنگ لاتی ہے بلکہ دیندار لوگوں میں شادی کرے کہ بچہ پر نانا ماموں کی عادات و افعال کا بھی اثر پڑتا ہے۔ “
ڈاکٹر اقبال نے خوب کہا ہے:
اگر پندے ز درویشے پذیری
جہاں میرد و لیکن تو نمیری
بتولے باش پنہاں شو ازیں عصر کہ
در بآغوش شیرے بگیری ”
اے مسلمان عورت! اگر تو اس درویش کی نصیحت قبول کر لے گی تو دنیا مر جائے گی لیکن تو نہیں مرے گی، تو بتول بن کر رہ یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی طرح لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ تا کہ تو بھی اپنی گود میں شبیر یعنی امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کا مظہر فرزند دیکھ سکے۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے:
”عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندان کی وجہ سے، حسن و جمال کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے۔ تمہیں چاہیے کہ دیندار عورت سے شادی کرو۔“
دوسری جگہ ارشاد ہوا:
”تمام دنیا برتنے کا سامان ہے اور دنیا کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔“
ایک اور حدیث شریف میں ہے:
”قریش کی عورتیں سب سے اچھی ہیں کہ وہ اولاد پر بچپن میں بہت زیادہ مہربان اور شوہر کے مال کی بہترین محافظ ہیں۔“
اس حدیثِ پاک سے عورتوں کے بہترین ہونے کی دو علامات یہ معلوم ہوئیں کہ وہ اولاد کی نہایت اچھی تربیت کرتی ہیں اور شوہر کے مال کی خوب حفاظت کرتی ہیں۔اعلیٰ حضرت محدث بریلوی نے اولاد کے حقوق کے ضمن میں آداب مباشرت بھی تحریر کیے ہیں۔
آپ فرماتے ہیں:
”جماع کی ابتدا بسم اللّٰہ سے کرے ورنہ بچے میں شیطان شریک ہو جاتا ہے، اس وقت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اس سے بچہ کے اندھے ہونے کا اندیشہ ہے، زیادہ باتیں نہ کرے کہ گونگے یا تو تلے ہونے کا خطرہ ہے، مردو زن کپڑا اوڑھ لیں جانوروں کی طرح برہنہ نہ ہوں کہ بچہ کے بے حیا ہونے کا اندیشہ ہے۔ بچہ پیدا ہو تو فوراً دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہے کہ اس سے بچہ مرگی سے محفوظ رہتا ہے۔
اذان واقامت کہنے کے بعد کسی نیک متقی شخص سے تحنیک کرائیں یعنی کھجور چبوا کر خوب نرم کر کے بچے کے تالو میں لگوائیں اور بچے کے لیے خیر و برکت کی دعا کرائیں۔
نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بچے لائے جاتے، آپ تحنیک فرماتے اور ان کے لیے خیر و برکت کی دعا فرماتے۔
اعلیٰ حضرت مزید فرماتے ہیں:
ساتویں دن اور اگر نہ ہو سکے تو چودہویں ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کرے، بیٹی کے لیے ایک بکری اور بیٹے کے لیے دو بکرے۔ اس میں بچے کو گویا قرض سے چھڑانا ہے۔ سر کے بال اتروائے اور بالوں کے برابر چاندی تول کر خیرات کرے، سر پر زعفران لگائے۔ ختنہ بھی کرائے۔ بچہ کا اسلامی نام رکھے جیسے عبداللّٰہ، عبدالرحمٰن، احمد، حامد وغیر ہا عبادت وحمد کے نام؛ یا انبیاء و اولیاء یا بزرگوں میں جو نیک لوگ گزرے ہوں ان کے نام پر نام رکھے کہ موجب برکت ہے خصوصاً نامِ پاک محمد ﷺ کہ اس مبارک نام کی بے پایاں برکت دنیا و آخرت میں بچے کے کام آتی ہے۔ پیار میں بے قدر نام نہ رکھے کہ پڑا ہوا نام پھر مشکل سے چھوٹتاہے۔ ماں یا نیک نمازی دایہ سے دو سال تک بچہ کو دودھ پلوائے ۔

