اسلامی تربیت کا ایک اہم اصول اعلیٰ حضرت نے یہ بیان فرمایا کہ ”بچہ کو پاک کمائی سے پاک روزی کھلائی جائے کیونکہ نا پاک مال ، ناپاک عادات پیدا کرتا ہے۔
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے:
”والد کا کوئی عطیہ اولاد کے لیے حسن ادب سے بہتر نہیں۔“
دوسری حدیث پاک میں ہے:
”والد کو چاہیے کہ اولاد کی عزت کرے اور اسے اچھے آداب سکھائے۔“
ایک اور ارشاد مبارک ہے:
”جس طرح اولاد کے ذمہ باپ کے حقوق ہیں اسی طرح باپ کے ذمہ بھی اولاد کے حقوق ہیں۔“
ہمارے پیارے آقا ﷺ بچوں کے ساتھ نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے اور آپ صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ ایک اعرابی نے خدمت اقدس میں عرض کی، آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں میں تو کبھی ایسا نہیں کرتا۔
آقا و مولیٰ ﷺ فرمایا:
”اللّٰہ تعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت و شفقت کو نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔“
ایک حدیث پاک میں ارشاد ہوا:
اپنی اولاد میں عدل کرو ، اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو لڑکیوں کو فضیلت دیتا۔ ایک اور ارشاد گرامی ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو یہا ں تک کہ بوسہ لینے میں بھی ۔
امام اہلسنت رقم طراز ہیں:
خدا تعالیٰ کی ان امانتوں کے ساتھ مہر ولطف کا برتاؤ رکھے، انہیں پیار کرے، بدن سے لپٹائے، کندھے پر چڑھائے، ان سے ہنسنے، کھیلنے،بہلنے کی باتیں کرے، ان کی دلجوئی، دلداری، رعایت، محافظت،ہر وقت حتی کہ نماز و خطبہ میں بھی ملحوظ رکھے۔ نیا میوہ، نیا پھل پہلے انہیں دے کہ وہ بھی نیا پھل ہیں اور نئے کو نیا مناسب ہے۔ کبھی کبھی حسب مقدور انہیں شیرینی وغیرہ کھانے پینے ،کھیلنے کی اچھی چیز جوشرعاً جائز ہو دیتا رہے۔ بہلانے کے لیے جھوٹا وعدہ نہ کرے، چند بچے ہوں تو جو چیز دے سب کو برابر یکساں دے، ایک دوسرے پر دینی فضیلت کے بغیر ترجیح نہ دے، سفر سے آئے تو ان کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لائے۔ زبان کھلتے ہی سب سے پہلے ”اللّٰہ اللّٰہ“ اور پھر ”لاالہ الا اللّٰہ“ پھر پورا ”کلمہ طیبہ“ سکھائے۔ جب بچے کو سمجھ آنے لگے تو ادب سکھائے یعنی کھانے پینے ، ہنسنے بولنے، اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے، حیا لحاظ، بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ اور استاد کے آداب بتائے۔
قرآن پاک پڑھوائے اور بعد ختم قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔
عقائد اسلام و سنت سکھائے اس وقت کا بتایا پتھر پر لکیر ہوگا۔
حضور اقدس ﷺ کی محبت و تعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان وعین اسلام ہے۔ حضور علیہ السلام کے آل و اصحاب و اولیاء و علماء کی محبت و عظمت کی تعلیم کرے کہ ایمان کا زیور بلکہ بقائے ایمان کا باعث ہے۔
سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے اور علم دین سکھائے، خصوصاً وضو، غسل ،نماز و روزه کے مسائل، خوبیوں کے فضائل اور برائیوں کے نقصانات سمجھائے۔
پڑھانے سکھانے میں نرمی کا خیال رکھنے کی ضرورت ہو تو آنکھیں دکھانے اور تنبیہ کرنے پر اکتفا کرے۔ ہرگز کو سنا نہ دے کہ اس سے زیادہ فساد کا اندیشہ ہے۔ اگر مارے تو منہ پر نہ مارے۔ اکثر اوقات ڈانٹ ڈپٹ اور ڈرانے سے کام چلائے، چھڑی وغیرہ صرف رعب کے لئے سامنے رکھے۔
زمانَۂ تعلیم میں کچھ وقت کھیلنے کا بھی دے مگر ہر گز ہر گز بری صحبت میں نہ بیٹھنے دے کہ یار بد (برا دوست ) ماربد (برے سانپ) سے بدتر ہے۔
فحش باتوں، کتابوں اور برے ماحول سے بچائے کہ نرم لکڑی جدھر جھکائے جھک جاتی ہے۔ جب دس برس کا ہو مار کر نماز پڑھائے اس عمر سے اپنے یا کسی اور کے ساتھ نہ سلائے جدا پلنگ پر سلائے ۔
جب جوان ہو شادی کر دے اور شادی میں قوم و دین و سیرت و صورت کی رعایت ملحوظ رکھے۔ اب کوئی ایسا کام کہنا ہو جس میں نافرمانی کا احتمال ہو وہ اسے حکم کے طور پر نہ کہے بلکہ نرمی و شفقت سے بطور مشورہ کہے نیز اسے میراث سے محروم نہ کرے۔

