یہ احکام لڑکے لڑکیوں کیلئے عام تھے صرف لڑکوں کے چند حقوق یہ ہیں کہ انہیں لکھنا پڑھنا سکھائے ،سپہ گری سکھائے ،سورہ مائدہ کی تعلیم دے اور اعلان کے ساتھ ختنہ کرے۔
لڑکیوں کے چند حقوق یہ ہیں کہ ان کی پیدائش کو برا نہ جانے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت سمجھے، انہیں سینا پرونا، کھانا پکانا سکھائے، سورۂ نور کی تعلیم دے ،کچھ دینے میں بیٹوں اور بیٹیوں میں پورا انصاف کرے، بیٹوں سے زیادہ ان کی دلجوئی اور خاطر داری کرے کہ ان کا دل بہت چھوٹا ہوتا ہے جو چیز دے پہلے انہیں دے کر پھر بیٹوں کو دے، نو برس کی عمر سے نہ اپنے پاس سلائے نہ بھائی وغیرہ کے پاس سونے دے اس عمر سے خاص نگہداشت رکھے۔
شادی بارات میں جہاں ناچ گانا ہو انہیں ہر گز نہ جانے دے اگر چہ خاص اپنے بھائی کے گھر ہو کیونکہ گانا سخت سنگین جادو ہے اور ان نازک شیشیوں کو تھوڑی سی ٹھیس بھی بہت ہے۔ ان کی بیگانوں کے گھروں میں جانے کی مطلقاً بندش کرے ،بلکہ اپنے گھر کو اس کے لئے قید خانہ کی مثل کر دے۔
بالا خانوں پر نہ رہنے دے، اپنے گھر میں انہیں لباس و زیور سے آراستہ کرے کہ پیام رغبت سے آئیں، جب جوڑ ملے تو نکاح میں دیر نہ کرے مگر ہر گز کسی فاسق و فاجر خصوصاً بدمذہب کے نکاح میں نہ دے۔
مذکورہ رسالے میں اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمتہ اللّٰہ تعالی علیہ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں اولاد کے اسی 80 حقوق بیان فرمائے ہیں جن میں سے چیدہ چیدہ حقوق یہاں تحریر کئے گئے تفصیل کے لئے مذکورہ رسالہ ملاحظہ فرمائیں۔
اب بچوں کی تربیت کے حوالے سے مزید چند باتیں پیش خدمت ہیں:
بچوں کو اس بات کی عادت ڈالئے کہ وہ ہمیشہ صاف ستھرے رہیں اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کریں۔ بچوں کو کاہلی اور آرام پرستی سے نفرت دلائیے اور اس بات کی سختی سے تاکید کیجئے کہ وہ کوئی کام آپ سے چھپا کر نہ کریں۔
جب وہ کوئی اچھا کام کریں تو تعریف کر کے یا انعام دے کر ان کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ دوسروں کے سامنے بچوں کو ڈانٹنے اور شرمندہ کرنے سے مکمل پرہیز کیجئے اس طرح بار بار ڈانٹنے اور ملامت کرنے سے وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ کبھی کبھی مناسب سختی بھی کرنی چاہئے۔ بے جا لاڈلا پیار بچوں کو ضدی اور خود سر بنا دیتا ہے اس لئے بچوں کی تربیت میں میانہ روی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
آقا و مولیٰ ﷺ کا فرمانِ ذیشان ہے کہ
”جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کا ثواب اسے ہمیشہ ملتا رہتا ہے۔“
اول: صدقہ جاریہ ۔
دوم: وہ علم جس سے لوگوں کو نفع پہنچتا رہے ۔
سوم: وہ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔“
معلوم ہوا کہ نیک اولاد اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے لہٰذا اولاد کی دینی تربیت کرنے میں والدین کو کسی قسم کی غفلت نہیں کرنی چاہئے۔
ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا:
”تم میں سے ہر ایک نگراں اور ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حاکم نگراں ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا۔ ہرشخص اپنے گھر والوں کا نگراں ہے اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا، ہر عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگراں ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“
اہل و عیال کی تعلیم و تربیت ایسا اہم فریضہ ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے صحابَۂ کرام کو نصیحت فرمائی:
” تم اپنے گھر والوں کی تربیت میں اپنی چھڑی ان سے نہ ہٹانہ یعنی مناسب سختی کرتے رہنا۔“
نورِ مجسم ﷺ نے اولاد کو بے حیائی کے کاموں سے نہ روکنے والوں کیلئے یہ وعید سنائی کہ تین اشخاص پر اللّٰہ تعالیٰ نے جنت حرام فرمادی، شرابی، والدین کا نافرمان اور وہ بے حیا جو اپنے گھر میں بے حیائی کے کام ہونے دے۔

