Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 45 of 90

ایک اور حدیث شریف میں اہل وعیال کی دینی تربیت کرنے والوں کے لئے جنت کی خوشخبری سنائی گئی۔

ارشاد ہوا:

”اللّٰہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو کہتا ہے اے میری بیوی! اے میرے بچو! تمہاری نماز ؟ تمہارا روزه؟ تمہاری زکوٰة ؟ تمہارا مسکین؟ تمہارا یتیم ؟ تمہارا پڑوسی؟ (یعنی وہ اپنے بیوی بچوں کو نماز روزہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرتا ہے اور مسکین، یتیم اور پڑوسی کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے) امید ہے کہ رب کریم اس کے گھر والوں کو اس ایک شخص کے ساتھ جنت میں جمع فرمائے گا۔“

اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے بندے وہ ہیں جو اپنے اہل وعیال کی دینی تربیت کے لئے بھر پور کوششیں کرتے ہیں اور رب کریم سے ان کے نیک ومتقی ہونے کی دعائیں بھی مانگتے رہتے ہیں ،

ارشاد باری تعالیٰ ہوا:

”اور وہ لوگ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! دے ہمیں ہماری بیبیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔“

حقوق العباد کا بیان

سوال: والدین کے حقوق اور دیگر حقوق العباد کے بارے میں بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیے۔

جواب: ارشاد باری تعالی ہے:

”ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنے باندی غلام سے (بھی اچھا سلوک کرو)۔“

اس آیت کریمہ میں نہایت جامع انداز میں حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے جس کی تفصیل بعد میں بیان کی جائے گی پہلے والدین کے حقوق کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا گیا:

”ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہوں (یا اُف) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑ کنا اور ان سے تعظیم کی بات کرنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے (یعنی ان سے تواضع اور محبت کا برتاؤ کر) اور عرض کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم کر جیسا ان دونوں نے مجھے چھوٹے پن (یعنی بچپن ) میں پالا۔“

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں والدین کے ساتھ حسن سلوک لازم ہے خصوصاً جب وہ عمر رسیدہ ہوں۔یہ بھی حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ بھلائی بھی کی جائے اور ان کے لئے رحمت کی دعا بھی۔

اب والدین کے حقوق کے متعلق چند احادیث مبارکہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے:

”وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔“

بارگاہِ نبوی میں کسی نے عرض کی یارسول الله والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟

ارشاد ہوا: ”وہ دونوں تیری جنت و دوزخ ہیں “یعنی ان کو راضی رکھنے سے جنت ملے گی اور ان کی ناراضگی کا انجام دوزخ ہے۔“

نور مجسم کا فرمان عالیشان ہے:

”جو اپنے والدین کو ایک بار محبت و مہربانی کی نگاہ سے دیکھے اللّٰہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک مقبول حج لکھے گا۔ عرض کی گئی یا رسول الله ! اگر کوئی روزانہ سو بار دیکھے پھر بھی یہ اجر ہے؟ فرمایا ہاں ! اللّٰہ تعالیٰ بہت بڑا اور پاک ہے۔“

ایک صحابی نے جہاد میں شرکت کے لئے آقا و مولیٰ سے اجازت مانگی تو ارشاد ہوا:

”تم اپنے والدین کی خدمت کرو جنت انہیں کے قدموں کے نیچے ہے“۔

غیب بتانے والے آقا کا فرمان ذیشان ہے

تم دوسروں کی عورتوں سے پر ہیز کر کے پارسا ہو جاؤ ایسا کرنے سے تمہاری عورتیں پارسا رہیں گی، تم اپنے والدین سے اچھا سلوک کرو ایسا کرنے سے تمہاری اولاد تم سے اچھا سلوک کرے گی۔

Share:
keyboard_arrow_up