ایک صحابی نے بارگاہ اقدس میں عرض کی یا رسول اللّٰہ ﷺ ! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد مجھ پر ان کے کوئی حقوق ہیں؟ فرمایا ہاں! ان کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا کرنا، ان کے کہے ہوئے وعدے پورے کرنا، ان کے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا۔
احمد مختار محبوب پروردگا رﷺ کا ارشاد ہے :
”جو اپنے ماں باپ یا کسی ایک کی قبر پر ہر جمعہ کو زیارت کے لئے حاضر ہو اللّٰہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اور وہ والدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھا جائے گا۔“
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:
”والدین کے انتقال کے بعد ان سے حسن سلوک یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ ان کے (ایصال ثواب کے) لئے بھی نماز پڑھو اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے (ایصال ثواب کے) لئے بھی روزے رکھو۔“
ایک حدیث پاک میں بڑے بھائی کے حق کے بارے میں فرمایا گیا، ”بڑے بھائی کا حق چھوٹے پر ایسا ہے جیسے باپ کا حق بیٹے پر۔“
یونہی ایک شخص نے جس کی والدہ فوت ہو چکی تھی قبول تو بہ کیلئے بارگاہ نبوی میں عرض کی تو ارشاد ہوا:
” تو اپنی خالہ کے ساتھ حسن سلوک کر ۔“
علماء فرماتے ہیں باپ کے بعد دادا اور بڑے بھائی کا مرتبہ ہے اسی طرح بڑی بہن اور خالہ ماں کے قائم مقام ہیں۔
اسی طرح ساس و سسر کو بھی ماں باپ کی جگہ جان کر ان کی تعظیم و خدمت کرنی چاہئے۔ رشتے داروں سے حسن سلوک کے متعلق بھی احادیث مبارکہ میں بہت زور دیا گیا ہے۔
حضورﷺ کا ارشاد ہے:
”رشتے توڑنے والا جنت میں نہ جائے گا۔“
دوسری جگہ فرمایا گیا:
”جو چاہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہئے کہ وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔ “
آقاومولیٰ ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے :
”صلہ رحمی یہ نہیں کہ رشتےدار کے احسان کا بدلہ دیا جائے بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ جب رشتہ دار تعلق توڑیں پھربھی ان سے اچھا سلوک کیا جائے۔“
اساتذہ کے حقوق کے متعلق ”شرح الحقوق لطرح المعقوق“ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث قادری بریلوی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،
”استاد کی ناشکری و نافرمانی باپ کی نافرمانی کی مثل ہے کیونکہ استاد باپ کا درجہ رکھتا ہے“۔
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے:
”میں تمہارا باپ ہی ہوں کہ تم کو علم سکھاتا ہوں۔“
بلکہ علماء نے فرمایا ہے کہ استاد کا درجہ والدین سے زیادہ ہے کیونکہ ان سے جسمانی زندگی وابستہ ہے اور استاد روحانی حیات کا سبب ہے۔
سید عالم ﷺ کا فرمان ہے:
”جس نے کسی بندے کو کتاب اللّٰہ کی کوئی آیت سکھا دی وہ اس کا آقا ہو گیا۔“
مولیٰ علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
”جس نے مجھے ایک حرف پڑھایا تو اس نے مجھے اپنا بندہ بنا لیا وہ اگر چاہے تو بیچے اور چاہے تو آزاد کرے ۔
نبی کریم ﷺ نے استاد کے سامنے تواضع و انکساری اپنانے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا:” علم حاصل کرو اور علم کے لئے سکون و وقار سیکھو اور جس سے تم علم حاصل کروا س کے سامنے تواضع اور عاجزی اختیار کرو۔“
دینِ اسلام میں بوڑھے اور ضعیف لوگوں کے حقوق کے بارے میں خاص طور پر نصیحت کی گئی ہے۔
آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
”تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کے حق کو منافق ہی ہلکا جانے گا۔
اول: بوڑھا مسلمان
دوم: عالم با عمل
سوم: عادل حاکم ۔

