رحمت عالم ﷺ کا ارشاد ہے،
”سفید بالوں والے یعنی بوڑھے مسلمان کی عزت کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم سے ہے۔“
بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت اسلامی اخلاق کے اہم اصول ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”وہ ہم سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت ومہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ۔“
آقا و مولیٰ ﷺ نے معاشرے کے کمزور افراد مثلاً بیوہ، یتیم ومسکین کی خبر گیری اور مدد کرنے کی بے حد تلقین فرمائی ہے۔
ارشاد ہوا:
”بیوہ اور مسکین کے لیے امدادکی کوشش کرنے والا اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔“
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہونگے جیسے دو انگلیاں باہم قریب ہوتی ہیں۔“
ایک اور ارشاد گرامی ہے:
”جو کسی یتیم کی پرورش کرے اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے جنت لازم فرما دیتا ہے بشر طیکہ وہ کوئی نا قابل بخشش کام نہ کرے۔“
پڑوسی کے حقوق کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ فرما ئیں۔
ارشاد ہوا:
”وہ جنت میں نہیں جائے گا جس کے شر سے اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔
“فرمایا:”وہ کامل مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔“
فرمایا:”اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کا خیر خواہ ہو۔
مہمان کے حقوق کے بارے میں آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے:
”جو اللّٰہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔ اس کی مہمانی ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی عدت تین دن ہے اور اس کے بعد وہ صدقہ ہے۔ مہمان کو جائز نہیں کہ اس کے پاس ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اسے تنگ کردے۔
ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے:
” مسلمان پر مسلمان کے چھ (6) حقوق ہیں۔
جب اس سے ملو تو سلام کرو، جب وہ دعوت دے تو قبول کرو، جب تم سے خیر خوا ہی چاہے تو بھلائی کرو اور جب اس کا انتقال ہو تو جنازے میں جاؤ ۔“
ایک اور ارشاد گرامی ہے:
”اللّٰہ عز وجل اس پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا“
آخر میں وہ جامع حدیث پاک ملاحظہ کیجیے جس پر عمل کرنے سے مثالی فلاحی معاشرے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے ۔
آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
”تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (دینی) بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“
باب ششم طلاق
طلاق کی اقسام اور مسائل
سوال : طلاق کی کتنی قسمیں ہیں ؟ چند ایسے معروف جملے بتائیے جن سے طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے۔ نیز طلاق کے متعلق ضروری مسائل بیان کیجیے۔
جواب: طلاق کے لفظی معنی چھوڑ دینے کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں طلاق سے مراد شوہر و بیوی کے درمیان جدائی یا علیحدگی واقع ہونا ہے۔ جب شوہر و بیوی ایک دوسرے کے لیے آرام وسکون کی بجائے اذیت و پریشانی بن جائیں، مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں اور ازدواجی تعلق برقرار رہنے کی کوئی صورت ممکن نہ رہے تو جدائی کے لیے اسلام نے طلاق کا قانون بیان کیا جسے سخت مجبوری کے عالم میں استعمال کیا جائے ۔یہ ایسا جائز فعل ہے جو رب کریم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
”اللّٰہ تعالی کے نزدیک جائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ کام طلاق دینا ہے۔“

