Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 48 of 90

شریعت مطہرہ نے جہاں مرد کو یہ احساس دلایا کہ شرعی وجہ کے بغیر طلاق دینا مکروہ اور ممنوع ہے وہیں عورت کو بھی خبردار کیا کہ وہ بغیر اشد مجبوری کے ہرگز طلاق نہ مانگے ورنہ جنت کی خوشبو سے محروم رہے گی۔

نبی کریم کا ارشاد ہے:

”جو عورت کسی شدید مجبوری کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“

کم نصیبی سے ہمارے معاشرے میں جہالت کے باعث یہ وبا پھیل رہی ہے کہ شوہر و بیوی میں جہاں جھگڑا ہو، غصے کی حالت میں صبر و درگذر کے بجائے فوراً طلاق دے دیتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ بیک وقت تین طلاقیں دیتے ہیں اور پھر غصہ ٹھنڈا ہونے پر ساری عمر پچھتاتے ہیں یا پھر پہلے تو حیلے بہانے تراشتے ہیں کہ ” غصہ میں طلاق دی ۔“ غور کیجیے کیا پیار محبت میں بھی کوئی طلاق دیتا ہے؟ ظاہر ہے کہ طلاق تو عموماً غصے ہی میں دی جاتی ہے اور طلاق بہر حال واقع جاتی ہے۔

پھر یہ ایسے ایمان فروشوں کو تلاش کرتے ہیں جو نہ کسی امام کو مانتے ہیں اور نہ ہی صحابہ کرام کو۔ یہ بد مذہب غیر مقلد فتوی دیتے ہیں کہ تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔ یوں بعض نفس پرست ان کے فریب میں آکر تمام عمر حرام کاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ حالانکہ بیک وقت تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔

(اس پر آئندہ صفحات میں دلائل بیان کئے جائیں گے )

طلاق کی اقسام: طلاق دینے کے لئے دو قسم کے الفاظ ادا کئے جاتے ہیں۔

(۲) کنایہ۔

(۱) صریح طلاق

صریح وہ ہے جس میں طلاق کا لفظ استعمال ہو یا ایسے الفاظ کہنا جن سے طلاق مراد ہونا ظاہر ہو اگر چہ وہ کسی زبان کے ہوں۔

جیسے: ”میں نے تجھے چھوڑا “صریح ہے اس سے ایک طلاق ہو جائے گی خواہ نیت ہو یا نہیں۔ یہ طلاق رجعی کہلاتی ہے یعنی عدت کے اندر رجوع کیا جا سکتا ہے۔ رجوع نہ کرنے پر عدت ختم ہونے پر وہ نکاح سے نکل جائے گی، اگر عدت گزرنے کے بعد رشتہ جوڑنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ ایسے الفاظ جن سے طلاق مراد ہونا ظاہر نہ ہو اور دوسرے معنوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہو ایسے الفاظ کنایہ کہلاتے ہیں۔ کنایہ سے طلاق واقع ہونے میں یہ شرط ہے کہ طلاق کی نیت ہو یا حالت بتاتی ہو کہ طلاق مراد ہے یا پہلے سے طلاق کا ذکر تھا یا غصہ میں کہا۔

کنایہ کے الفاظ تین طرح کے ہیں:

اول: جن میں سوال رد کرنے کا احتمال ہے ان الفاظ کے کہنے میں نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔

دوم: جن میں گالی کا احتمال ہے ان سے طلاق ہونا خوشی اور غضب میں نیت پر موقوف ہے اور اگر پہلے سے طلاق کا ذکر تھا تو نیت کی ضرورت نہیں۔

سوم: جو فقط کسی بات کا جواب ہوں۔ خوشی کی حالت میں نیت کا ہونا ضروری ہے اور غضب و مذاکرہ کے وقت بغیر نیت بھی طلاق ہو جائے گی۔

کنایہ کے بعض الفاظ یہ ہیں:

تو حرام ہے ،تو علیحدہ ہے ،تو جدا ہے ، تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا، میں نے تجھے چھوڑ دیا ،میں نے تجھے جدا کر دیا، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، اپنے آپ کو اختیار کر، تیری رسی تیری گردن پر،10۔ اٹھ جا،11۔ نکل جا،12۔ چلی جا، 13۔اجنبی ہو،14۔ جا پردہ کرلے،15۔ اور شوہر ڈھونڈ لے،16۔ تو آزاد ہے ،17۔بھاڑ میں جا،18۔ دفع ہو،19۔ کالا منہ کر۔ کنایہ کے الفاظ سے ایک بائن طلاق واقع ہوگی البتہ اگر تین کی نیت کرے تو تین واقع ہونگی اور اگر دو کی نیت کی تو ایک ہی واقع ہوگی۔

طلاق بائن کا مطلب :

مطلب یہ ہے کہ عورت نکاح سے نکل گئی اب رشتہ جوڑنے کے لئے دوبارہ نکاح ضروری ہے خواہ عدت کے اندر ہو یا بعد۔ اگر تین طلاقوں کی نیت کی تھی تو حلالہ کے بغیر اس سے نکاح جائز نہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up